ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

حکومت نے دھرنا اٹھاتے اٹھاتے پورے پاکستان میں پھیلا دیا،دودھ میں مینگنیاں ڈال کر اسے ہلانے کی کیا ضرورت تھی؟ نواز شریف نے بانڈ دینے سے انکار کر دیا، حکومت نے بانڈ کے بغیر باہر بھجوانے سے انکار کر دیا، اس انکار کا نقصان کس کو ہو گا؟جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

دنیا میں مسئلے تھے‘ مسئلے ہیں اور مسئلے رہیں گے چناں چہ ایشو مسئلہ نہیں ایشو مسئلے کا حل ہے‘ آپ اگر مسئلے کو حل کرنا جانتے ہیں تو پھر آپ کے لیے کوئی مسئلہ‘ مسئلہ نہیں رہتا لیکن آپ میں اگر مسائل کے حل کی اہلیت نہیں تو پھر زندگی مسائلستان بن جاتی ہے‘

آپ پھر مسئلوں سے نکل نہیں سکتے‘ ہماری حکومت کا ایک ایشو بلکہ سب سے بڑا ایشو مسائل کو حل کرنے کی اہلیت کا فقدان ہے‘ حکومت مسئلہ حل کرتے کرتے اس کو مزید پھیلا دیتی ہے‘ مثلاً آپ الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی کا ایشو لے لیں‘ وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر سے ملنا تھا اور یہ مسئلہ حل ہو جاتا‘ حکومت نے اسے حل کرنے کی بجائے بحران بنا دیا‘ قومی اسمبلی سے جلد بازی میں 9 آرڈیننس پاس کرا لیے گئے‘ اپوزیشن نے ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا اعلان کر دیا‘ بحران پیدا ہو گیا‘ مولانا نے دھرنا دیا‘ حکومت نے دھرنے کو اٹھاتے اٹھاتے یہ دھرنا پورے پاکستان میں پھیلا دیا اور اب میاں نواز شریف کو باہر بھجوانے کے ایشو نے ایک نیا تنازع‘ ایک نیا بحران پیدا کر دیا‘حکومت نے اگر اجازت دینی تھی تو یہ دے دیتی‘ دودھ میں مینگنیاں ڈال کر اسے ہلانے کی کیا ضرورت تھی؟ حکومت کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا یہ ایشو کو پھیلا کیوں دیتی ہے؟ نواز شریف نے بانڈ دینے سے انکار کر دیا‘ حکومت نے بانڈ کے بغیر باہر بھجوانے سے انکار کر دیا‘ اس انکار کا نقصان کس کو ہو گا؟ مولانا فضل الرحمن نے پورے ملک کی شاہراہیں بند کرنے کے اعلان کے ساتھ دھرنا ختم کر دیا، سڑکوں کی بندش کا نقصان کس کو ہو گا؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…