منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی عدلیہ کا متعصبانہ چہرہ بے نقاب،نریندر مودی کا بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور بنچ کے ممبران کو لکھا گیا خط منظر عام پر آ گیا

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

نئی دہلی (این این آئی) بھارتی وزیر اعظم، نریندر مودی نے خود ہی بھارتی عدلیہ کا متعصبانہ چہرہ بے نقاب کردیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ رام مندر-بابری مسجد کیس میں عدالت عظمی کے حالیہ فیصلے کا مقصد ہندو انتہا پسندوں کو خوش کرنا تھا۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق نر یندر مودی نے بھارتی عدلیہ کا متعصبانہ چہرہ بھارتی سپریم کورٹ کے

چیف جسٹس رنکن گوگوئی اور اس بنچ کے دیگر ممبروں کو لکھے گئے خط میں کیا ہے جس نے ہفتہ کو رام مندربابری مسجد مقدمہ کا فیصلہ سنایا تھا۔ خط میں مودی نے ہندو راشٹر ا کے قیام میں ان کے کردار پر بنچ کے ارکان کومبارکباد دی۔نر یندر مودی نے خط میں لکھا محترم چیف جسٹس رنکین گوگوئی، میں ہندو راشٹرا کے قیام میں آپ اور آپ کے بینچ کے ارکان جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندر چود، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبد ل نذیر کے کردار پر انہیں مبارکباد دیتاہوں۔ انہوں نے لکھا کہ ہندو آپ کے اس قابل تعریف اور یادگار فیصلے پر آپ اور آپ کی ٹیم کے ہمیشہ مشکور رہیں گے جو ہندو راشٹر اکے لئے ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔انہوں نے خط میں مزید لکھا میں آپ اور آپ کے اہل خانہ کو آپ کی مستقبل کی کوششوں کے لئے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں اور ایک بار پھر آپ کو اس تاریخی فیصلے پرمبارکباد دیتاہوں۔ میں اس اہم وقت میں بھرپورمدد کے لئے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔واضح رہے کہ رام مندر بابری مسجد کیس میں بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ بابری مسجد کی اراضی ایک مندر کی تعمیر کے لئے حکومت کے زیر انتظام ٹرسٹ کو دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…