اسلام آباد (آن لائن) نیب حکام کو ایل این جی کرپشن سکینڈل میں ملوث اور گرفتار ارب پتی اقبال زیڈ احمد کیخلاف ٹھوس ثبوت مل گئے جبکہ ملکی اور غیر ملکی بینکوں سے ملزم کی جانب سے کی گئی ادائیگیوں کی مکمل رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔ پاکستان کے ارب پتی افراد میں اقبال زیڈ احمد کا شمار ہوتا ہے اور ہر حکومت سے اربوں روپے کا فائدہ اٹھانے والے افراد میں ان کا نام سرفہرست آتا ہے۔
اقبال زیڈ احمد کیخلاف ایل این جی ٹرمینل میں کرپشن کرنے اور حکمرانوں سے اربوں روپے کی ڈیل کرنے کا الزام ہے جبکہ ان کے شریک ملزم شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل بھی کرپشن مقدمات میں جیل کوٹھڑی میں پابند سلاسل ہیں۔ نیب ذرائع نے بتایا ہے کہ اقبال زیڈ احمد نے پیپلز پارٹی دور حکومت میں ایل پی جی سیکٹر میں اربوں روپے کے معاہدے کر کے قومی خزانہ کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگایا ہے یہ سکینڈل بھی عدالت میں زیرسماعت ہے۔ جے جے وی ایل کے نام پر او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل کے اعلیٰ حکام بھی اس سکینڈل میں شریک ملزم ہیں۔ نواز شریف دور حکومت میں اقبال زیڈ احمد نے شاہد خاقان عباسی کے ساتھ مل کر ایل این جی کے نام پر اربوں روپے کا نقصان قومی خزانہ کو پہنچا رکھا ہے۔ موصوف ملزم لاہور سے تعلق رکھتا ہے اور ملک کے نامور وکیل اعتزازاحسن کے انتہائی قریبی رشتہ دار ہیں اور اعتزاز کی بیگم بشریٰ کے ساتھ ایل پی جی کاکاروبار بھی کرتے ہیں۔ نیب حکام نے ملزم کیخلاف اربوں روپے کے ناقابل تردید ثبوت اکٹھے کر لئے ہیں اور ان کیخلاف عدالت میں یہ ثبوت پیش کر کے لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کا عہد کر چکے ہیں اقبال زیڈ احمد کے بھی ذاتی طیارے ہیں جو ہر حکمران کو مفت فراہم کرتے ہیں لاہور سے دیگر کرپٹ افراد کی طرح انہیں بھی حکمرانوں کو خریدنے کا ڈھنگ آتا ہے۔ اقبال زیڈ احمد کیخلاف ٹھوس ثبوت ملتنے کے بعد ان کی کرپشن سے فائدہ اٹھانے والے افسران اور افراد میں کھلبلی مچی ہوئی ہے اور میڈیا میں اقبال فراڈیا کے حق میں مہم چلانے میں مصروف ہیں لیکن نیب حکام نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لیں گے۔



















































