ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

آزادی مارچ کے شرکاء کیساتھ حکومت کیسا سلوک روا رکھے ہوئے ہے؟ حیران کن دعویٰ کر دیا گیا

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

عبدالحکیم (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام پاکستان (ف) کے مرکزی رہنما مولانا عطا ء  الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے آزادی مارچ کے شرکاء کو سہولیات فراہم کرنے کے دعوے محض خیالی اور جھوٹے ہیں ہم نے اپنے ورکرز کیلئے بدلتے موسم کیساتھ جرسیوں کا ٹرک منگوایا جسکو حکومت نے پکڑ کر تھانے میں بند کر دیا وہ ایک دن تھانے میں بند رہا ہمارا ایک ورکر گر

کر شدید زخمی ہو گیا ہم اسکو راولپنڈی کے سرکاری ہسپتال میں لے گئے وہاں پر حکومت نے اس نوجوان کا علاج نہیں ہونے دیا پھر ہم نے اسکا پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کرایا ہمارے ورکرز جس ریسٹورینٹ ہوٹل اور دکان پر جاتے ہیں ان کو سودا سلف نہیں دیا جاتا دکاندار کہتے ہیں کہ ہمیں حکومت نے منع کیا ہے اس کے علاوہ ہمارے کارکنوں کا بسوں کا قافلہ کراچی سے اسلام آباد آرہا تھا کہ راستے میں انہیں وفاقی حکومت کی انتظامیہ نے روک لیا تو ڈرائیور گاڑیاں چھوڑ کر بھاگ گئے انہوں نے کہا کہ حکومت کا شرکاء  کو کھانا و دیگر سہولیات فراہم کرنے کا دعویٰ جھوٹا اور سراسر بدنیتی پر مبنی ہے حکومت نے ہر بات پر یوٹرن لینے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے پاکستان میں سب سے زیادہ مخیر حضرات پی ٹی آئی میں ہیں حکومت نے آزادی مارچ کو کوئی سہولت فراہم نہیں کی عمران کے استعفے تک ہم اسلام آباد میں رہیں گے ہم وزیر اعظم کے استعفیٰ اور فی الفور فیئر الیکشن کے مطالبے سے قطعاً پیچھے نہیں ہٹیں گے حکومت لاکھوں افراد کے اجتماع کو ہزاروں میں شمار کررہی ہے حکومت نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو ہمارے کارکن حکومت کو خود چلتا کریں گے مولانا عطاء الرحمن نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کے پاس ابھی ایک ماہ کا وافر مقدار میں راشن موجود ہے آزادی مارچ سے واپسی کا تو ابھی ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہے حکومتی دعوے کہ ہم ایک دو دن میں احتجاج ختم کردیں گے یہ انجانے کی باتیں ہیں انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کا دھرنا نہیں بلکہ ایک دھرنی تھی ہمارے پاس لاکھوں لوگوں کی افرادی قوت موجود ہے سیلیکٹڈ اور دھاندلی کے ساتھ وجود میں آنے والی حکومت کے خاتمے تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا اور ہم ہر حال استعفیٰ لیکر جائیں گے -‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…