پیر‬‮ ، 18 مئی‬‮‬‮ 2026 

آزادی مارچ کے شرکاء کیساتھ حکومت کیسا سلوک روا رکھے ہوئے ہے؟ حیران کن دعویٰ کر دیا گیا

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

عبدالحکیم (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام پاکستان (ف) کے مرکزی رہنما مولانا عطا ء  الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے آزادی مارچ کے شرکاء کو سہولیات فراہم کرنے کے دعوے محض خیالی اور جھوٹے ہیں ہم نے اپنے ورکرز کیلئے بدلتے موسم کیساتھ جرسیوں کا ٹرک منگوایا جسکو حکومت نے پکڑ کر تھانے میں بند کر دیا وہ ایک دن تھانے میں بند رہا ہمارا ایک ورکر گر

کر شدید زخمی ہو گیا ہم اسکو راولپنڈی کے سرکاری ہسپتال میں لے گئے وہاں پر حکومت نے اس نوجوان کا علاج نہیں ہونے دیا پھر ہم نے اسکا پرائیویٹ ہسپتال میں علاج کرایا ہمارے ورکرز جس ریسٹورینٹ ہوٹل اور دکان پر جاتے ہیں ان کو سودا سلف نہیں دیا جاتا دکاندار کہتے ہیں کہ ہمیں حکومت نے منع کیا ہے اس کے علاوہ ہمارے کارکنوں کا بسوں کا قافلہ کراچی سے اسلام آباد آرہا تھا کہ راستے میں انہیں وفاقی حکومت کی انتظامیہ نے روک لیا تو ڈرائیور گاڑیاں چھوڑ کر بھاگ گئے انہوں نے کہا کہ حکومت کا شرکاء  کو کھانا و دیگر سہولیات فراہم کرنے کا دعویٰ جھوٹا اور سراسر بدنیتی پر مبنی ہے حکومت نے ہر بات پر یوٹرن لینے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے پاکستان میں سب سے زیادہ مخیر حضرات پی ٹی آئی میں ہیں حکومت نے آزادی مارچ کو کوئی سہولت فراہم نہیں کی عمران کے استعفے تک ہم اسلام آباد میں رہیں گے ہم وزیر اعظم کے استعفیٰ اور فی الفور فیئر الیکشن کے مطالبے سے قطعاً پیچھے نہیں ہٹیں گے حکومت لاکھوں افراد کے اجتماع کو ہزاروں میں شمار کررہی ہے حکومت نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو ہمارے کارکن حکومت کو خود چلتا کریں گے مولانا عطاء الرحمن نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کے پاس ابھی ایک ماہ کا وافر مقدار میں راشن موجود ہے آزادی مارچ سے واپسی کا تو ابھی ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہے حکومتی دعوے کہ ہم ایک دو دن میں احتجاج ختم کردیں گے یہ انجانے کی باتیں ہیں انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کا دھرنا نہیں بلکہ ایک دھرنی تھی ہمارے پاس لاکھوں لوگوں کی افرادی قوت موجود ہے سیلیکٹڈ اور دھاندلی کے ساتھ وجود میں آنے والی حکومت کے خاتمے تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا اور ہم ہر حال استعفیٰ لیکر جائیں گے -‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئی سٹل لو یو


یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…