اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

این جی اوزاہلکاروں کے سینکڑوں ویزوں میں توسیع کاانکشاف

datetime 13  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان میں غیرملکی این جی اوزمتعلقہ ایجنسیوں سے کلئیرنس لئے بغیر کام کے لئے مفاہمت کی یادداشتوں اورویزوں میں توسیع لے رہی ہیں ۔دستیاب دستاویزات کے مطابق یہ این اجی اوزاتنی بااثرہوگئی ہیں کہ اپنے ساتھ کام کرنے والے غیرملکی شہریوں کے ویزوں میں توسیع خفیہ اداروں سے کلئیرنس لئے بغیراقتصادی امورڈویژن سے اجازت لے کروزارت داخلہ سے ایم اویوز میں بھی توسیع کرالیتی ہیں ۔دستاویزات کے مطابق یونیک لاجسٹکس کے نام کاایک مشاورتی ادارہ ان مختلف غیرملکی این جی اوز سے وابستہ افرادکوویزے دلانے کے علاوہ مفاہمت کی یادداشتوں میں توسیع کراکے دیتاہے لیکن اس عمل میں کلئیرنس سمیت کئی ضروری امورکونظراندازکردیاجاتاہے ۔اقتصادی امورڈویژن کی ایڈوائس پروزارت داخلہ نے متعدد غیرملکیوں کوویزے جاری ہوتے ہیں اوراس ضمن متعلقہ ایجنسیوں سے اجازت نہیں لی جاتی ۔دستاویزات کے مطابق وزارت داخلہ نے جن غیرملکیوں کے ویزوں میں توسیع دی ان میں Johanniterمیں کام کرنے والے مارکس شین میتھیوزاور Jens Somerfeldt کاتعلق آسٹریلیا سے ہے ۔انٹرنیشنل فاﺅنڈیشن فارالیکٹورل سسٹمز کے ساتھ کام کرنے والے رومانیہ کے Pavel Cabaceno ،نیپال کی مس اجونپاستھا،لاہورمیں مقیم مس جین ایشلے بار۔مس لڈسے این نارتھ اورمس جل ٹرنورکوبغیرکلئیرنس کے ویزوں میں توسیع دی گئی ´معاملہ کی تحقیقات کرنے والے ذرائع نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایاکہ ایسالگتاہے کہ یونیک لاجسٹکس کے اقتصادی امورڈویژن اوروزار ت داخلہ میں رابطے ہیں اسی وجہ سے اسکے کلائنٹس کومجوزہ طریقہ کارسے ہٹ کرکلیئرنس مل جاتی ہے ۔اس سارے معاملے میں زیادہ تراین جی اوز اہلکاروں کی تفصیلات مشکوک پائی گئی ہیں اوران کی پڑتال کی جارہی ہے ۔ایسی این جی اوزکے خلاف سخت کارروائی شروع کردی گئی ہے ۔تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ان این جی اوزکوپاکستان سے کام سمیٹنے کاکہاجائے گااوران سے وابستہ افرادکوناپسندیدہ قراردے کرپاکستان بدرکردیاجائے گا،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…