جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

کرتار پور راہداری کا افتتاح ،تمام تیاریاں مکمل شرکاء کیلئے پنڈال میں کس چیز کا بندوبست کیا گیا ؟ تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)وزیراعظم پاکستان عمران خان (آج) ہفتہ 9 نومبر کو کرتار پور راہداری کا افتتاح کریں گے جس کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔بھارت کی جانب سے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ اور سیاسی و سماجی رہنما نوجوت سنگھ سدھو کی شمولیت بھی متوقع ہے، افتتاحی تقریب کے دعوت نامے سفارتکاروں اور دیگر اہم شخصیات کو بھیجوائے گئے ہیں۔معززین کیلئے ساٹھ فٹ لمبا

اور چوبیس فٹ چوڑا اسٹیج تیار کیا گیا جبکہ شرکا کے لیے پنڈال میں چھ ہزار کرسیاں، ساونڈ سسٹم اور اسکرینیں لگائی گئی ہیں۔ بارش کے پیش نظر پنڈال کو واٹر پروف بنایا گیا ۔بابا گرونانک کے550 ویں جنم دن میں شرکت کیلیے مختلف ممالک میں پاکستانی سفارتخانوں نے سکھ یاتریوں کو ویزے بھی جاری کر دیئے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مختلف ممالک سے پانچ ہزار سکھ یاتریوں کو ویزے جارے کیے گئے ، مجموعی تعداد 10 ہزار تک جا سکتی ہے۔ڈیرہ بابا نانک راہداری کے حوالے سے پہلی بار 1998 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان مشاورت کی گئی تھی اور اب 21 برس بعد 9 نومبر کو کھولے جانے کا امکان ہے۔گوردوارہ دربار صاحب بین الاقوامی سرحد زیرو پوائنٹ سے ساڑھے 4 کلومیٹر کے فیصلے پر پاکستان میں واقع ہے۔مذکورہ منصوبہ 823 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہے اور تین سو تیس ایکڑ رقبے پر یاتریوں کے قیام کیلئے کمپلیکس بنایا گیا ہے۔ تیرہ اعشاریہ پانچ ایکڑ رقبے پر بارڈر ٹرمینل امیگریشن کی عمارت بنائی گئی ہے۔منصوبے میں 6.8 کلومیٹر سڑکیں، دریائے راوی پر 800 میٹر پل اور دریائے راوی پر 2.8 کلومیٹر پر سیلاب سے بچاؤ کیلئے بند بنائے گئے ہیں۔پاکستان دوسرے مرحلے میں بڈھی راوی کریک زیرو پوائنٹ پر 262 میٹر پل بھی تعمیر کریے گا۔ گوردوارہ کے گرد ایک لاکھ 52 ہزار مربع فٹ بارہ دری بھی تعمیر کی گئی۔بارہ دری میں درشن ڈیوڑی، دیوان استھان، میوزیم، لائبریری اور 500 یاتریوں کیلئے 20 رہائشی احاطے شامل ہیں۔ بابا گرونانک سے منسوب آم کے درخت، کھوئی صاحب سمیت تمام اشیاء کو محفوظ کر دیا گیا۔گرو دوارے میں 28 ہزار 190 مربع فٹ لنگر خانہ 2 ہزار لوگوں کو بیک وقت خدمات پیش کرے گا۔پاکستان کے ضلع ناروال کی تحصیل شکر گڑھ میں کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے،یہاں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتے ہیں،کرتار پور میں واقع دربار صاحب گرودوارہ کا بھارتی سرحد سے فاصلہ تین سے چار کلومیٹر ہے تاہم سکھ یاتریوں کو لاہور سے اس گرودوارے تک پہنچنے 130 کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے اور تقریباً تین گھنٹوں کا وقت لگ جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…