ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

”ہمیں سردی میں چھوڑ کر مولانا صاحب کنٹینر میں حلوہ کھا رہے ہیں“ آزادی مارچ کے شرکاء فضل الرحمان سے مایوس، اسلام آباد سے واپسی شروع، حیرت انگیز صورتحال

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آزادی مارچ کے شرکاء نے واپسی کا سفر شروع کر دیا، یہ بات معروف صحافی رانا عظیم نے کہی، انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کے حوالے سے پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا کی پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ ایک بڑا مجمع واپس جا چکا ہے، معروف صحافی نے کہاکہ رائے ونڈ اجتماع کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے یہ اس سال کا آخری اجتماع ہے اس لیے ان لوگوں نے وہاں جانا ہی جانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی وہاں جا کر دیکھے تو اندازہ ہو گا کہ بہت ساری گاڑیاں واپس جا رہی ہیں، معروف صحافی نے بتایاکہ آزادی مارچ میں کارکنوں نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم سخت سردی میں یہاں بیٹھے ہیں جبکہ ٹی وی پر چل رہا ہے کہ کنٹینر پر مولانا صاحب حلوہ کھا رہے ہیں۔ رانا عظیم نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے جب آزادی مارچ میں آئے تو انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ جو کارکن ان کے آنے پر ان کے ہاتھ چوما کرتے تھے انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ رانا عظیم نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ مختصر قصہ یہ ہے کہ نو نومبر کو ہر صورت دھرنا ختم ہونا ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ نواز شریف قوم کے پلیٹ لیٹس پر مہربانی کریں اور قوم کے جو پیسے لوٹے تھے وہ واپس کردیں،پاکستان میں سیاست کی آزادی ہے، چاہے وہ کتنی بھی غلط کیوں نہ ہو، ہمیں تیز بارش میں لوگوں کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، دھرنے میں قیادت گھر میں بیٹھ کر حلوے کھارہی ہے، کارکنان بارش میں دھکے کھا رہے ہیں،حکومت اور اسلام آباد کو کوئی خطرہ نہیں، ہم نے پاکستان کیلئے ایک ایسا راستہ چنا ہے جو ترقی اور خوشحالی کا راستہ ہے، پاکستان آگے جائیگا۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاست کی آزادی ہے، چاہے وہ کتنی بھی غلط کیوں نہ ہو، ہمیں تیز بارش میں لوگوں کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے پہلے افغانستان میں بچے بھیجے اور اپنے خاندان کے ایک شخص کو بھی وہاں نہیں بھیجا، یہ خود سب بیوروکریٹس ہیں اور پتہ نہیں کیا کیا ہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ دھرنے میں قیادت گھر میں بیٹھ کر حلوے کھارہی ہے جبکہ کارکنان بارش میں دھکے کھا رہے ہیں، جس پر بڑا افسوس ہے اور اسی کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم نے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ وہاں جاکر سہولیات فراہم کریں۔انہوں نے کہاکہ اس اقدام پر عبدالغفور حیدری جو بارش میں خود اپنے گھر پر ہوتے تھے انہوں نے کہا کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے، مجھے حیرانی ہے کہ جے یو آئی (ف) کی قیادت اپنے کارکنان کو ہی سہولیات دینے میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…