پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

خود پرست افراد میں ڈپریشن کا خطرہ کم ہوتا ہے یا زیادہ ؟نئی تحقیق میں اہم انکشاف

datetime 30  اکتوبر‬‮  2019 |

ڈبلن(این این آئی)اپنی شخصیت تو ہر انسان کو پسند ہوتی ہے مگر کچھ ایسے ہوتے ہیں جو دیوانگی کی حد تک اپنے آپ سے محبت کرتے ہیں۔ایسے افراد کو خود پسند، مغرور، گھمنڈی اور نرگسیت پسند سمیت متعدد الفاظ سے پکارا جاتا ہے اور آپ کے ارگرد بھی ایسے لوگ ہوسکتے ہیں جو گفتگو کے دوران ہر موضوع کو اپنی ذات کی جانب موڑ دیتے ہوں، ایسا رشتے دار جو اپنے سامنے کسی کو کچھ نہ سمجھتا ہو یا دفتری ساتھی

جو ہر وقت اپنی ہی تعریفوں کے پل باندھتا رہتا ہو۔مگر ایسے افراد ذہنی طور پر مضبوط ہوتے ہیں اور ان میں ڈپریشن اور ذہنی تنا کا امکان کم ہوتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ دعویٰ شمالی آئرلینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔کوئنز یونیورسٹی کی تحقیق میں 700 افراد کی شخصی عادات پر ہونے والی 3 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ خود پرستی کی ایک قسم گرینڈ ڈی اوس یا اپنی شان و شوکت ظاہر کرنے والے افراد میں ذہنی مزاحمت بڑھ جاتی ہے جس سے ڈپریشن کی علامات کم سامنے آتی ہیں۔تحقیق کے مطابق ایسی شخصیت رکھنے والے افراد کے اندر اپنی اہمیت کا احساس بہت زیادہ ہوتا ہے، ان میں تنا? کی شرح بھی دیگر سے کم ہوتی ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ خودپرستی کی 2 جہتیں ہوتی ہیں شان و شوکت کا اظہار اور مظلومیت کا احساس۔مظلومیت کا احساس رکھنے والے خودپرست افراد دفاعی انداز رکھتے ہوئے دیگر کے رویوں کو مخالفانہ سمجھتے ہیں جبکہ دوسری قسم کے افراد میں اپنی اہمیت کا احساس بہت زیادہ ہوتا ہے اور اپنی حیثیت اور اختیار کا احساس انہیں آسمان پر چڑھا دیتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ خودپرست افراد میں خطرناک رویے ظاہر ہوسکتے ہیں، اپنے بارے میں غیرحقیقی بالادستی کا نظریہ پیدا ہوسکتا ہے اور حد سے زیادہ اعتماد کے ساتھ دیگر کے لیے بہت کم ہمدردی ہوتی ہے جبکہ شرمندگی کا احساس نہیں ہوتا۔تاہم انہوں نے کہا کہ نتائج سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شان و شوکت کے شائق افراد میں ذہنی مضبوطی کے مثبت عناصر جیسے اعتماد اور مقصد کا حصول وغیرہ پائے جاتے ہیں، جو انہیں ڈپریشن کی علامات سے تحفظ کے ساتھ تنائو سے بچاتے ہیں۔محققین کے مطابق اگر ایک فرد ذہنی طور پر مضبوط ہوگا تو وہ چیلنجز کو رکاوٹ سمجھنے کی بجائے انہیں قبول کرسکے گا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ خودپرستی کی تمام جہتیں تو اچھی نہیں مگر کچھ پہلو مثبت نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…