بدھ‬‮ ، 10 جون‬‮ 2026 

کپتان دیگر سیاسی قائدین کی کرپشن کی فکر چھوڑ کر پہلے اپنی بہن کا حساب قوم کے سامنے رکھیں،اسفندیارولی خان نے بڑا مطالبہ کردیا، دھماکہ خیز اقدام کا اعلان

datetime 29  اکتوبر‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ اے این پی کارکنان کثیر تعداد میں 31اکتوبر کو اسلام آباد کا رخ کرینگے،الیکشن میں جو چوری کی گئی ہے اُس چور کے پیچھے ساری سیاسی قوتیں بشمول اے این پی کارکنان جائینگے اور چوری کا حساب لیں گے۔آزادی مارچ کے حوالے سے ولی باغ چارسدہ سے جاری اپنے ویڈیو پیغام میں اسفندیار ولی خان نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے ساتھ ساتھ اے این پی کارکنان سرخ ٹوپی اور

جھنڈوں کیساتھ31اکتوبر کو اسلام آباد کیلئے نکلیں گے اور وہاں اپنے چوری شدہ مینڈیٹ کے حوالے سے چوروں کا احتساب کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اُس وقت تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک مینڈیٹ چوری کرنے والے کے ساتھ حساب پورا نہیں ہوتا۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی کی یہ جدوجہد اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک انصاف پر مبنی شفاف الیکشن نہیں ہوتے، اس حکومت کے خلاف نکلنا جہاد کے مترادف ہے کیونکہ جعلی مینڈیٹ اور چوری کی حکومت کو اگر ایک طرف بھی رکھ دیا جائے تو آج غریب اور متوسط طبقہ اس قابل نہیں رہا کہ وہ اپنے لیے آٹے کی بوری بھی خرید سکے، انہوں نے کہا کہ آج مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حکومت پہلے سے اعلان کرچکی ہے کہ اس سال کے آخرتک مہنگائی مزید 13فیصد بڑھے گی،جب مہنگائی مزید 13فیصد بڑھے گی تو اس کے بعد جو حالات بنیں گے کیا غریب اس میں گزارا کرسکے گا؟ اسفندیار ولی خان نے مزید کہا کہ کپتان کا یہ اعلان کہ اپوزیشن جماعتیں این آر او مانگ رہی ہیں یہ بلا جواز ہے،انہوں نے ایک بار کپتان کو چیلنج کرتے ہوئے کہ کہ اگر ان میں تھوڑی بھی ہمت ہے تو کرپشن کے دعووں کو ثابت کریں اور میرے یا میرے بچوں اور بیوی کے نام پر ایک روپیہ ثابت کریں، اگر کپتان نے مجھ پر ایک روپے کی کرپشن ثابت کی تو مجھے سزا دینے کی بجائے سر عام پھانسی دے دیں۔ انہوں نے کہا کہ کپتان دیگر

سیاسی قائدین کی کرپشن کی فکر چھوڑ کر پہلے اپنی بہن کا حساب قوم کے سامنے رکھیں، اسی طرح الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کا جو کیس چل رہا ہے اُس کا جواب قوم کے سامنے رکھے۔ انہوں نے کہا کہ کپتان یاد رکھیں کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہ ہم سے این آر او مانگے گا اور اُس کی توبہ قبول نہیں ہوگی،اے این پی کپتان سے نہ این آر او مانگ رہی ہے اور نہ ہی اے این پی کو کسی این آر او کی ضرورت ہے۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اب فیصلہ کن مرحلہ آچکا ہے،

جیل اور قید و بند کی صعوبتوں کو بالائے طاق رکھ کر اے این پی آزادی مارچ کا حصہ بنے گی کیونکہ ہمارے ورکر جیل کے ساتھ ساتھ قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کرسکتا ہے، جب کپتان کی باری آئیگی تو اُس میں اتنی ہمت نہیں ہوگی کہ وہ اپوزیشن کی ایک کارروائی کو بھی برداشت کرسکے۔ انہوں نے اے این پی کارکنان کو یاد دلایا کہ سانحہ ٹکر،بابڑہ اور قصہ خوانی کی سیاست اُن کو ورثے میں ملی ہے،جب بھی ملک و قوم پر برا وقت آیا ہے تو اے این پی کارکنان میدان میں نکلے ہیں،آج وہ گھڑی آن پہنچی ہے کہ اے این پی کارکنان کثیر تعداد میں آزادی مارچ کا حصہ بنیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…