ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

پوری ملاقات میں نہ کوئی شکوہ، نہ عمران خان پر تنقید مولانا طارق جمیل جب نواز شریف سے ملاقات کرکے جانے لگے تو جانتے ہیں سابق وزیراعظم کے الفاظ کیا تھے

datetime 29  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر کالم نگار جاوید چوہدری اپنے کالم ’’کوئلوں کی دلالی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔ مولاناکا اعتماد بہت خطرناک ہے‘ یہ پچھلے دو ماہ سے کہہ رہے ہیں ہم عمران خان کا استعفیٰ لیے بغیر واپس نہیں جائیں گے‘ یہ اعتماد‘ حکومت کی پریشانی‘ مارچ کی اجازت مل جانا اور میاں نواز شریف کی ضمانت بآواز کہہ رہی ہے حالات اب وہ نہیں ہیں

جو چند ماہ پہلے تک تھے۔ چیزیں اور حالات کا رخ دونوں بدل رہے ہیں چناں چہ مولانا اگر پانچ دس لاکھ لوگوں کے ساتھ پنجاب میں داخل ہو گئے تو پھر بات ایک استعفے تک نہیں رہے گی‘ تین استعفے ہوں گے‘ مارچ کام یاب ہوتا ہے یا ناکام یہ فیصلہ چند دنوں میں ہو جائے گا تاہم یہ طے ہے مارچ کے بعد حالات یہ نہیں رہیں گے‘ حکومت اگر بچ بھی گئی تو بھی بری طرح معذور ہو چکی ہو گی اور یہ زیادہ دنوں تک اپنے قدموں پر کھڑی نہیں رہ سکے گی۔عمران خان قوم کی امید تھے‘ حکومت کو بہرحال کام یاب ہونا چاہیے تھا مگر افسوس ان لوگوں نے خود گڑھے کھودے اور یہ خود ہی ان میں جا گرے۔آپ جب کندھوںپر بیٹھ کر آئیں گے تو پھر آپ کندھوں کی بے وفائی کا رونا نہیں رو سکتے‘ آپ کو بہرحال ایک صفحے پر رہنا پڑتا ہے‘ آپ کو بنانے والوں کی طاقت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے مگر عمران خان اب لیڈر بن رہے تھے‘ یہ خود کو اتھارٹی سمجھنا شروع ہو گئے ہیں چناں چہ ان کے ٹائروں سے ہوا نکلنا ضروری تھی اور یہ اب نکل رہی ہے‘ کندھوں پر چڑھنا عمران خان کی پہلی بڑی غلطی تھی‘ ان کی دوسری بڑی غلطی اپنی ساری توانائی اپوزیشن کو دبانے پر خرچ کردینا تھی۔یہ جتنا زور میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو نیچے دبانے یا رگڑا لگانے پر لگاتے رہے‘ یہ اگر اتنی توجہ گورننس اور پرفارمنس پر دے دیتے تو آج مورخ تاریخ کو نئے زاویے سے لکھ رہا ہوتا‘

آج لوگ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو فراموش کر چکے ہوتے مگر افسوس عمران خان نے زرداری اور نواز شریف دونوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا‘ حکومت نے ثابت کر دیا یہ ملک ان کے بغیر نہیں چل سکتا‘ عمران خان نے کیا کیا؟ آپ صرف ایک واقعے سے اندازہ کر لیجیے۔ 24 اکتوبر کو مولانا طارق جمیل میاں نواز شریف کی عیادت کے لیے گئے۔یہ ایک گھنٹہ ہسپتال میں بیٹھے رہے‘ میاں نواز شریف نے اس دوران کوئی شکوہ نہیں کیا‘ یہ بھی نہیں کہا آپ کن لوگوں کے ساتھ مل کر ریاست مدینہ تلاش کر رہے ہیں لیکن جب مولانا اٹھنے لگے تو نواز شریف نے ان سے کہا ”آپ بس ایک دعا کریں‘

اللہ تعالیٰ کسی کو دشمن دے تو اعلیٰ ظرف دے“ یہ ایک فقرہ کافی ہے‘ افسوس حکومت احتساب بھی نہ کر سکی اور یہ اعلیٰ ظرفی سے بھی محروم ہو گئی‘ آخر اس کے ہاتھ راکھ اور خاک کے سوا کیا آیا؟یہ لوگ اپنی ساکھ بھی کھو بیٹھے اور یہ عوام کے اعتماد کی دولت سے بھی محروم ہو گئے‘ ہم نے آخر کوئلوں کی دلالی سے کیا پایا؟ اور اس دلالی میں اگر زرداری صاحب یا میاں صاحب کوکچھ ہو جاتا ہے تو پھر حکومت کہاں ہو گی؟ ذرا سوچیے اور بار بار سوچیے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…