اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

پوری ملاقات میں نہ کوئی شکوہ، نہ عمران خان پر تنقید مولانا طارق جمیل جب نواز شریف سے ملاقات کرکے جانے لگے تو جانتے ہیں سابق وزیراعظم کے الفاظ کیا تھے

datetime 29  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر کالم نگار جاوید چوہدری اپنے کالم ’’کوئلوں کی دلالی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔ مولاناکا اعتماد بہت خطرناک ہے‘ یہ پچھلے دو ماہ سے کہہ رہے ہیں ہم عمران خان کا استعفیٰ لیے بغیر واپس نہیں جائیں گے‘ یہ اعتماد‘ حکومت کی پریشانی‘ مارچ کی اجازت مل جانا اور میاں نواز شریف کی ضمانت بآواز کہہ رہی ہے حالات اب وہ نہیں ہیں

جو چند ماہ پہلے تک تھے۔ چیزیں اور حالات کا رخ دونوں بدل رہے ہیں چناں چہ مولانا اگر پانچ دس لاکھ لوگوں کے ساتھ پنجاب میں داخل ہو گئے تو پھر بات ایک استعفے تک نہیں رہے گی‘ تین استعفے ہوں گے‘ مارچ کام یاب ہوتا ہے یا ناکام یہ فیصلہ چند دنوں میں ہو جائے گا تاہم یہ طے ہے مارچ کے بعد حالات یہ نہیں رہیں گے‘ حکومت اگر بچ بھی گئی تو بھی بری طرح معذور ہو چکی ہو گی اور یہ زیادہ دنوں تک اپنے قدموں پر کھڑی نہیں رہ سکے گی۔عمران خان قوم کی امید تھے‘ حکومت کو بہرحال کام یاب ہونا چاہیے تھا مگر افسوس ان لوگوں نے خود گڑھے کھودے اور یہ خود ہی ان میں جا گرے۔آپ جب کندھوںپر بیٹھ کر آئیں گے تو پھر آپ کندھوں کی بے وفائی کا رونا نہیں رو سکتے‘ آپ کو بہرحال ایک صفحے پر رہنا پڑتا ہے‘ آپ کو بنانے والوں کی طاقت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے مگر عمران خان اب لیڈر بن رہے تھے‘ یہ خود کو اتھارٹی سمجھنا شروع ہو گئے ہیں چناں چہ ان کے ٹائروں سے ہوا نکلنا ضروری تھی اور یہ اب نکل رہی ہے‘ کندھوں پر چڑھنا عمران خان کی پہلی بڑی غلطی تھی‘ ان کی دوسری بڑی غلطی اپنی ساری توانائی اپوزیشن کو دبانے پر خرچ کردینا تھی۔یہ جتنا زور میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو نیچے دبانے یا رگڑا لگانے پر لگاتے رہے‘ یہ اگر اتنی توجہ گورننس اور پرفارمنس پر دے دیتے تو آج مورخ تاریخ کو نئے زاویے سے لکھ رہا ہوتا‘

آج لوگ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو فراموش کر چکے ہوتے مگر افسوس عمران خان نے زرداری اور نواز شریف دونوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا‘ حکومت نے ثابت کر دیا یہ ملک ان کے بغیر نہیں چل سکتا‘ عمران خان نے کیا کیا؟ آپ صرف ایک واقعے سے اندازہ کر لیجیے۔ 24 اکتوبر کو مولانا طارق جمیل میاں نواز شریف کی عیادت کے لیے گئے۔یہ ایک گھنٹہ ہسپتال میں بیٹھے رہے‘ میاں نواز شریف نے اس دوران کوئی شکوہ نہیں کیا‘ یہ بھی نہیں کہا آپ کن لوگوں کے ساتھ مل کر ریاست مدینہ تلاش کر رہے ہیں لیکن جب مولانا اٹھنے لگے تو نواز شریف نے ان سے کہا ”آپ بس ایک دعا کریں‘

اللہ تعالیٰ کسی کو دشمن دے تو اعلیٰ ظرف دے“ یہ ایک فقرہ کافی ہے‘ افسوس حکومت احتساب بھی نہ کر سکی اور یہ اعلیٰ ظرفی سے بھی محروم ہو گئی‘ آخر اس کے ہاتھ راکھ اور خاک کے سوا کیا آیا؟یہ لوگ اپنی ساکھ بھی کھو بیٹھے اور یہ عوام کے اعتماد کی دولت سے بھی محروم ہو گئے‘ ہم نے آخر کوئلوں کی دلالی سے کیا پایا؟ اور اس دلالی میں اگر زرداری صاحب یا میاں صاحب کوکچھ ہو جاتا ہے تو پھر حکومت کہاں ہو گی؟ ذرا سوچیے اور بار بار سوچیے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…