جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

بشار حکومت کی انٹیلی جنس سے رابطے ہیں اور یہ طبعی امر ہے، ترکی

datetime 24  اکتوبر‬‮  2019 |

انقرہ(این این آئی)ترکی ہمیشہ سے یہ اعلان کرتا رہا ہے کہ وہ شمالی شام میں ایک سیف زون کے قیام کا خواہاں ہے تا کہ شامی پناہ گزینوں کو وہاں واپس بھیجا جا سکے۔ ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کو دہرایا ہے۔ ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو کا کہنا ہے کہ شمالی شام کے حوالے سے ترکی اور روس کے درمیان طے پانے والا معاہدہ سیاسی اور سفارتی کامیابی ہے۔

علاوہ ازیں یہ پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے ایک بنیادی اقدام ہے۔غیرملکی خبرساں ادارے کے مطابق ایک پریس کانفرنس کے دوران اولو نے واضح کیا کہ سمجھوتے کے مطابق سیف زون دریائے فرات سے لے کر عراقی سرحد تک پھیلا ہوا ہو گا۔ اس میں عین العرب اور القامشلی کا مشرقی حصہ بھی شامل ہو گا۔ترکی کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آئندہ 150 گھنٹوں کے دوران ترکی اور شام کی سرحد پرکرد فورسز کو ان کے ہتھیاروں سمیت شام کے اندر 30 کلو میٹر تک دور کر دیا جائے گا یہ شامی پناہ گزینوں کی اپنے وطن واپسی کی خاطر ایک اہم قدم ہے۔چاوش اولو کے مطابق ترکی کرد فورسز کی جانب سے خالی کیے جانے والے علاقوں کا کنٹرول مقامی آبادی کے ساتھ مل کر سنبھالے گا۔ انہوں نے کہا کہ “اس وقت وہاں روس کی فورسز اور شامی حکومت کے کوسٹ گارڈ کے دستے ہوں گے۔ بعد ازاں شامی عوام کے تمام طبقات کی شرکت سے مقامی انتظامیہ تشکیل دی جائے گی۔ اہم چیز کرد فورسز کا دور کیا جانا ہے۔اولو نے ترکی اور شامی حکومت کے بیچ براہ راست رابطے کی تردید کی تاہم انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس کی سطح پر رابطے موجود ہیں اور یہ ایک طبعی امر ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ترکی پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے روس کے ساتھ کام کرے گا۔ اولو کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کے لیے مطلوب انفرا اسٹرکچر کی تیاری کے حوالے سے عطیہ کنندگان کا اجلاس منعقد کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے کیوں کہ یہ ایسا معاملہ نہیں جس کو ترکی اور روس تنہا نمٹا سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…