بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بشار حکومت کی انٹیلی جنس سے رابطے ہیں اور یہ طبعی امر ہے، ترکی

datetime 24  اکتوبر‬‮  2019 |

انقرہ(این این آئی)ترکی ہمیشہ سے یہ اعلان کرتا رہا ہے کہ وہ شمالی شام میں ایک سیف زون کے قیام کا خواہاں ہے تا کہ شامی پناہ گزینوں کو وہاں واپس بھیجا جا سکے۔ ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کو دہرایا ہے۔ ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو کا کہنا ہے کہ شمالی شام کے حوالے سے ترکی اور روس کے درمیان طے پانے والا معاہدہ سیاسی اور سفارتی کامیابی ہے۔

علاوہ ازیں یہ پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے ایک بنیادی اقدام ہے۔غیرملکی خبرساں ادارے کے مطابق ایک پریس کانفرنس کے دوران اولو نے واضح کیا کہ سمجھوتے کے مطابق سیف زون دریائے فرات سے لے کر عراقی سرحد تک پھیلا ہوا ہو گا۔ اس میں عین العرب اور القامشلی کا مشرقی حصہ بھی شامل ہو گا۔ترکی کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آئندہ 150 گھنٹوں کے دوران ترکی اور شام کی سرحد پرکرد فورسز کو ان کے ہتھیاروں سمیت شام کے اندر 30 کلو میٹر تک دور کر دیا جائے گا یہ شامی پناہ گزینوں کی اپنے وطن واپسی کی خاطر ایک اہم قدم ہے۔چاوش اولو کے مطابق ترکی کرد فورسز کی جانب سے خالی کیے جانے والے علاقوں کا کنٹرول مقامی آبادی کے ساتھ مل کر سنبھالے گا۔ انہوں نے کہا کہ “اس وقت وہاں روس کی فورسز اور شامی حکومت کے کوسٹ گارڈ کے دستے ہوں گے۔ بعد ازاں شامی عوام کے تمام طبقات کی شرکت سے مقامی انتظامیہ تشکیل دی جائے گی۔ اہم چیز کرد فورسز کا دور کیا جانا ہے۔اولو نے ترکی اور شامی حکومت کے بیچ براہ راست رابطے کی تردید کی تاہم انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس کی سطح پر رابطے موجود ہیں اور یہ ایک طبعی امر ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ترکی پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے روس کے ساتھ کام کرے گا۔ اولو کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کے لیے مطلوب انفرا اسٹرکچر کی تیاری کے حوالے سے عطیہ کنندگان کا اجلاس منعقد کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے کیوں کہ یہ ایسا معاملہ نہیں جس کو ترکی اور روس تنہا نمٹا سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…