اتوار‬‮ ، 29 مارچ‬‮ 2026 

بشار حکومت کی انٹیلی جنس سے رابطے ہیں اور یہ طبعی امر ہے، ترکی

datetime 24  اکتوبر‬‮  2019 |

انقرہ(این این آئی)ترکی ہمیشہ سے یہ اعلان کرتا رہا ہے کہ وہ شمالی شام میں ایک سیف زون کے قیام کا خواہاں ہے تا کہ شامی پناہ گزینوں کو وہاں واپس بھیجا جا سکے۔ ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر اپنے اس موقف کو دہرایا ہے۔ ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو کا کہنا ہے کہ شمالی شام کے حوالے سے ترکی اور روس کے درمیان طے پانے والا معاہدہ سیاسی اور سفارتی کامیابی ہے۔

علاوہ ازیں یہ پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے ایک بنیادی اقدام ہے۔غیرملکی خبرساں ادارے کے مطابق ایک پریس کانفرنس کے دوران اولو نے واضح کیا کہ سمجھوتے کے مطابق سیف زون دریائے فرات سے لے کر عراقی سرحد تک پھیلا ہوا ہو گا۔ اس میں عین العرب اور القامشلی کا مشرقی حصہ بھی شامل ہو گا۔ترکی کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آئندہ 150 گھنٹوں کے دوران ترکی اور شام کی سرحد پرکرد فورسز کو ان کے ہتھیاروں سمیت شام کے اندر 30 کلو میٹر تک دور کر دیا جائے گا یہ شامی پناہ گزینوں کی اپنے وطن واپسی کی خاطر ایک اہم قدم ہے۔چاوش اولو کے مطابق ترکی کرد فورسز کی جانب سے خالی کیے جانے والے علاقوں کا کنٹرول مقامی آبادی کے ساتھ مل کر سنبھالے گا۔ انہوں نے کہا کہ “اس وقت وہاں روس کی فورسز اور شامی حکومت کے کوسٹ گارڈ کے دستے ہوں گے۔ بعد ازاں شامی عوام کے تمام طبقات کی شرکت سے مقامی انتظامیہ تشکیل دی جائے گی۔ اہم چیز کرد فورسز کا دور کیا جانا ہے۔اولو نے ترکی اور شامی حکومت کے بیچ براہ راست رابطے کی تردید کی تاہم انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس کی سطح پر رابطے موجود ہیں اور یہ ایک طبعی امر ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ترکی پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے روس کے ساتھ کام کرے گا۔ اولو کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کے لیے مطلوب انفرا اسٹرکچر کی تیاری کے حوالے سے عطیہ کنندگان کا اجلاس منعقد کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے کیوں کہ یہ ایسا معاملہ نہیں جس کو ترکی اور روس تنہا نمٹا سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…