جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

جعلی ادویات کی تیاری اور فروخت کرنیوالوں کے خلاف کریک ڈائون کا آغاز

datetime 24  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن )وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ ادویات کی سستے داموں دستیابی اور معیار ہماری ترجیح ہے، جعلی ادویات کی تیاری اور فروخت کیخلاف ڈریپ کی طر ف سے کریک ڈائون شروع کر دیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار

انہوں نے وفاقی اور صوبائی ڈرگ انسپکٹرز کے اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ان رجسٹرڈ، جعلی اور غیر معیاری ادویات کی لعنت کی روک تھام کے لیے ملک بھر میں کریک ڈائون شر وع کر دیا گیا ہے۔ جبکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) ادویات کی مقررہ قیمتوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھر پور کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ادویات کی سستے داموں دستیابی وزارت قومی صحت اور اس کے ذیلی ادارہ ڈریپ کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈریپ کے انسپکٹرز اور صوبائی ڈرگ انتظامیہ کو حکومتی اور سول انتظامیہ کی بھر پور معاونت حاصل ہے۔ معاون خصوصی نے اپنے خطاب میں قومی میڈ یسنز پالیسی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ قومی میڈیسنز پالیسی کو دو ماہ میں حتمی شکل دے دی جائے گی اس کے علاوہ ڈریپ کے اپنے دفاتر میں بھی تمام سہولیات سے آراستہ لیبارٹریاں ہوں گی۔انہوں نے ڈریپ کی ٹاسک فورس سے خطاب میں ڈرگ انسپکٹریٹ کو دوبارہ فعال بنانے کے ویژن بارے بھی بتایا اور کہاکہ کمپنیوں کے ذریعے ادویات کی تیاری کی نگرانی کے مضبوط نظام سے ٹاسک فورس کے اغراض و مقاصد کو پورا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ نیشنل ٹاسک فورس وفاقی اور صوبائی ڈرگ انسپکٹر ز پر مشتمل ہے جو کہ ادویات کے ہول سیلرز ڈسٹری بیو ٹرز کا معائنہ کریں گے جبکہ ان معائنوں، ادویات کے نمونہ جات لینے اور ڈرگ ٹیسٹنگ، رپورٹنگ کے سلسلہ میں وفاقی اور صوبائی حکام ادارے رابطہ کاری کریں گے، ڈریپ کے ایکٹ 2012 اور ڈرگ ایکٹ 1976 کے تحت غیر رجسٹرڈ، جعلی اور غیر معیاری ادویات کی تیاری اور فروخت قابل سزاجرم ہے اور صحت عامہ کے منافی ایسی سنگین سرگرمیوں میں ملوث عنا صر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…