اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

طالبہ کی جانب سے ہراسگی کا الزام ،ایم اے او کالج لاہور کے لیکچرار نے خودکشی کر لی،جانتے ہیں تفتیش میں کیا نکلا اور مرنے سےپہلے خط میں کیا لکھا؟

datetime 19  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)صوبائی دارالخلامہ لاہور کی مشہوردرس گاہ ایم اے او کالج کے انگریزی کے لیکچرار افضل محمود نے ایک طالبہ کی جانب سے خود پر ہراسگی کا الزام لگائے جانے کے بعدتفتیش میں کلیئر ہونے کے باوجود کلیئرنس سرٹیفکیٹ نہ ملنے پر زہر کھا کر خود کشی کر لی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 9 اکتوبر 2019ء کو پیش آیا تھا،اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے والے افضل محمود کی لاش کے ساتھ ان کی ایک تحریر بھی ملی جس میں لکھا تھا کہ وہ اپنا معاملہ اب اللہ کے سپرد کر رہے ہیں اور ان کی موت کے بارے میں کسی سے نہ تفتیش کریں اور نہ ہی زحمت دیں۔ جبکہ پولیس اور میڈیکل رپورٹ سے بھی ثابت ہوا ہے کہ انہوں نے خود کشی کی ہے اور لکھا گیا نوٹ بھی ان کے ہاتھوں سے تحریر کیا گیا ہے۔افضل محمود کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر عالیہ کے نام لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ اس جھوٹے الزام کی وجہ سے میرا خاندان پریشانی کا شکار ہے۔میری بیوی بھی آج مجھے بدکردار قرار دے کر جا چکی ہے۔ میرے پاس زندگی میں کچھ نہیں بچا۔ میں کالج اور گھر میں ایک بدکردار آدمی کے طور پر جانا جاتا ہوں۔ اس وجہ سے میرے دل اور دماغ میں ہر وقت تکلیف ہوتی ہے۔افضل محمود پرطالبہ کی جانب سے ہراساں کرنے کے الزام کی تفتیش کرنے والی، ایم اے او ہراسمنٹ کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر عالیہ رحمان نے تصدیق کی کہ افضل پر لگنے والا الزام تفتیش میں جھوٹا ثابت ہوا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ان تک ماس کمیو نیکشن ڈیپارٹمنٹ کی ایک طالبہ کی درخواست پہنچی تھی جس میں درج تھا کہ سر افضل لڑکیوں کو گھور کر دیکھتے ہیں۔

جب یہ کیس میرے پاس آیا تو میں نے اس لڑکی سے بات کی تو اس نے مجھے کہا کہ اصل میں سر ہمارے نمبر کاٹتے ہیں اور ہماری کلاس میں حاضری کم تھی اس لیے سر نے ہمارے نمبر کاٹ لیے۔میں نے ان سے کہا کہ اس بات کو سائیڈ پر کریں اور ان کے کریکٹر کی بات کریں اور یہ بتائیں کہ افضل نے ان کے ساتھ کبھی کوئی غیر اخلاقی بات یا حرکت کی؟ جس پر الزام لگانے والی طالبہ نے جواب دیا کہ نہیں مجھے تو نہیں کہا لیکن میری کلاس کی لڑکیاں کہتی ہیں کہ وہ ہمیں گھورتے ہیں۔

ڈاکٹر عالیہ کے مطابق انہوں نے انکوائری مکمل کرنے کے بعد انکوائری رپورٹ میں یہ لکھ دیا کہ افضل کے اوپر غلط الزامات لگائے گئے ہیں اور وہ معصوم ہیں۔ میں نے اپنی انکوائری رپورٹ میں یہ لکھا تھا کہ افضل بے قصور ہیں، اس لڑکی  کو وارننگ جاری کی جائے اور اسے سختی سے ڈیل کیا جائے۔دوسری جانب کالج کے پرنسپل ڈاکٹر فرحان عبادت نے اس بات کا اعتراف کیا کہ میں نے کلیئرنس خط افضل کو جاری نہیں کیا کیونکہ میں سمجھا کہ ڈاکٹر عالیہ نے افضل کو بتا دیا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…