اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

کس غیر ملکی اہم ترین شخصیت کو پاکستان میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان امیگریشن حکام کی جانب سے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے )کے ایشیا پروگرام کووآرڈنیٹر اسٹیون بٹلر کو ملک میں داخلے سے روک دیا گیا۔سی پی جے کے جاری کردہ بیان کے مطابق حکام نے انہیں روکنے کی وجہ یہ بتائی کا ان کا نام ’روکنے والی فہرست‘

میں درج ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ’ پاکستانی امیگریشن حکام نے وزارت داخلہ کی تیار کردہ بلیک لسٹ کو بنیاد بناتے ہوئے سی پی جے ایشیا پروگرام کووآرڈنیٹر اسٹیون بٹلر کو ملک میں داخل ہونے سے روکا‘۔بیان میں اسٹیون بٹلر کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک سرحدی افسر نے انہیں کہا کہ ان کا صحافتی ویزا درست ہے لیکن اس کے باوجود انہیں اس لیے روکا گیا کہ کیوں کہ ان کا نام ’وزارت داخلہ کی روکنے والی فہرست‘ میں درج ہے۔بیان کے مطابق اسٹیون بٹلر کا پاسپورٹ ایئرپورٹ حکام نے ’ضبط‘ کرلیااور انہیں دوحا جانے والی پرواز میں جانے پر مجبور کیا گیا اور جب وہ دوحا پہنچے تو حکام نے انہیں واشنگٹن کی پرواز میں سوار کروادیا۔ اسٹیون بٹلر نے سی پی جے کو مید بتایا کہ جب وہ پرواز میں تھے تو جہاز کے عملے نے ان سے ان کا پاسپورٹ اور بورڈنگ پاس لے لیا تھا اور وہ ’ایک طرح کی حراست‘ میں تھے۔مذکورہ صورتحال پر سی پی جے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جوئیل سائمن نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستانی حکام ک جانب سے اسٹیون بٹلر کو ملک میں داخل ہونے سے روکنا حیران کن ہونے کے ساتھ ان کے منہ پر طمانچہ ہے جو ملک میں آزادی صحافت کے حوالے سے تشویش کا شکار ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی حکام کو اسٹیون بٹلر کو داخلے کی اجازت نہ دینے کے حوالے سے مکمل وضاحت دینی چاہیے بلکہ اپنی غلطی کو بھی درست کرنا چاہیے‘۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اگر حکومت آزادی صحافت کے حوالے سے اپنے وعدوں پر عملدرآمد کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے تو اسے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کروانی چاہیے۔دوسری جانب روڈ میپ فار ہیومن رائٹس ان پاکستان نامی تنظیم کے بیان میں بتایا گیا کہ ’اسٹیون بٹلر عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکت کے لیے لاہور آئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…