اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

نصف مٹھی خشک میوے کھانے سے لمبی عمرپائیں ،تحقیق

datetime 12  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)ہالینڈ میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر ہر روز آدھی مٹھی کے برابر خشک میوہ جات جن میں اخروٹ، بادام، کاجو، پستہ اور مونگ پھلی وغیرہ شامل ہیں کو کھایا جائے تو کافی حد تک جلد موت کا خطرہ ٹل جاتا ہے۔اس سے قبل کی جانے والی تحقیقات میں بھی یہ بات سامنے آئی تھی کہ خشک میوے کا استعمال دل کی تندرستی کے لیے اچھا ہوتا ہے۔ماسٹرکٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے دس سالہ تحقیق میں ان افراد کا مشاہدہ کیا جو روزانہ کم ازکم دس گرام خشک میوہ کھاتے تھے۔تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ان افراد میں موت کا خطرہ 23 فیصد کم رہا۔ماہرین کے مطابق مونگ پھلی کے مکھن کے استعمال کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اس میں نمک اور مصنوعی چربی ہوتی ہے۔اس تحقیق میں ہالنیڈ کے 12 ہزار افراد جن کی عمر 55 برس سے 69 برس کے درمیان تھی کو شامل کیا گیا۔
1986 میں ان افراد کے طرز زندگی اور خوراک کے استعمال کی عادات کو اکھٹا کیا گیا۔دس سال کے بعد ان 12 ہزار مردو خواتین میں موت کی اوسط شرح کا مشاہدہ کیا گیا۔ جس میں یہ بات سامنے آئی کہ خشک میوے کا استعمال کرنے والے افراد میں کینسر، شوگر، سانس کی بیماریوں اور اعصابی نظام کی تباہی کے باعث موت کا خطرہ کم پایا گیا۔ان افراد میں مجموعی طور پر اس عمر کے دیگر لوگوں کی نسبت جلد موت کا امکان 23 فیصد کم رہا۔اعصابی بیماریاں 45 فیصد کم رہیں، سانس کی بیماری کا 39 فیصد کم پائی گئی جبکہ شوگر کے مرض کا خطرہ 30 فیصد کم رہا۔بین الاقوامی جرنل ایپی ڈیمیالوجی میں چھپنے والی اس تحقیق میں شامل پروفیسر پیٹ وان ڈین برینڈٹ نے بی بی سی سے گفتگو میں اس تحقحق کے حاصل ہونے والے نتائج کو غیر معمولی قرار دیا۔انھوں نے بتایا کہ 15 گرام تک خشک میوے کے استعمال اور اس سےجلد موت کے امکانات کو کم کرنے میں مدد کے حوالے سے مشاہدہ پہلے ہی ہمارے سامنے موجود تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…