جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

ترکی نے شام میں کرد جنگجوؤں کیخلاف آپریشن شروع کردیا، شام نے بھی بھرپور جواب دینے کا اعلان کر دیا

datetime 10  اکتوبر‬‮  2019 |

انقرہ، راس العین(آن لائن)ترکی نے شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد جنگجووں کے خلاف فوجی آپریشن کا شروع کردیا اور سرحد سے ملحق قصبے راس العین میں فضائی کارروائی کی گئی۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے آپریشن کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ترکی کی جنوبی سرحد میں‘دہشت گردوں کی راہداری’کو ختم کرنا ہے۔ترکی نے شام میں فوجی آپریشن کا فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی فوج کو وہاں سے بے دخل کرنے کے اچانک فیصلے کے فوری بعد کیا

جبکہ ٹرمپ کے فیصلے کو واشنگٹن میں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔کرد جنگجو شام میں امریکی اتحادی تھے اسی لیے ٹرمپ کے اچانک فیصلے کو واشنگٹن میں اپنے اتحادیوں سے دھوکے سے تعبیر کیا گیا۔ٹرمپ کے فیصلے کو کرد جنگجووں نے بھی‘پیٹھ میں چھرا گونپنے’کے مترادف قرار دیا تھا تاہم امریکی صدر نے اس تاثر کو رد کردیا تھا۔فوجی کارروائی کے حوالے سے ترک سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ شام میں فوجی آپریشن فضائی کارروائی سے شروع کیا گیا ہے اور اس میں بری فوج کا تعاون بھی حاصل ہوگا۔ترک میڈیا کے مطابق راس العین میں بمباری کی گئی، طیاروں کے اڑنے کی آوازیں بھی سنی جاسکتی ہیں اور عمارتوں سے دھواں اڑتا ہوئی نظر آرہا ہے۔شام میں فوجی کارروائی کے تازہ سلسلے پر متعدد ممالک کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے کہ اس سے خطے کے بحران میں اضافہ ہوگا جبکہ ترکی کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد خطے کو محفوظ بنانا ہے تاکہ لاکھوں مہاجرین کو شام واپس بھیجا جاسکے۔دوسری جانب شام کا کہنا ہے کہ وہ ترکی کی کسی بھی جارحیت کا قانونی طریقے سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔خیال رہے کہ ترکی کا کئی برسوں سے یہ موقف ہے کہ شام میں موجود کرد جنگجو دہشت گرد جو ہمارے ملک میں انتہاپسند کاروائیوں میں ملوث ہیں اور انہیں کسی قسم کا خطرہ بننے سے روکنا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے انسانی بحران کے خدشے کے پیش نظر تمام فریقین پر زور دیا کہ شمال مشرقی شام میں

تحمل کا مظاہرہ کریں اور شہریوں کے تحفظ کا خیال رکھیں دوسری جانب کرد ملیشیا اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) نے ترکی پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ شام کے شمال مشرقی علاقے میں مجوزہ فوجی کارروائی سے داعش کے لیے نئی اراضی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ایس ڈی ایف کے ترجمان ”ان حملوں کے ذریعے ترکی داعش کے لیے نیا علاقہ لینا چاہتا ہے اور ان تنظیموں کی زندگی کی دوام بخشنا چاہتا ہے۔

ہم ترکی کے حملوں اور ان کی حمایت کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔“ایس ڈی ایف کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ”ترکی کے شمال مشرقی شام پرحملے کے مقاصد کے بارے میں پوری دنیا جانتی ہے۔ہم انسانی حقوق کی تنظیموں، جمہوری اداروں، یورپی یونین اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ترکی کے حملے کے خلاف موقف اختیار کریں۔جو کوئی بھی اس اپیل کو نظرانداز کرے گا، اس کو ترکی کے اقدامات کا حامی خیال کیا جائے گا۔“



کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…