اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

حکومت کیخلاف تحریک،اپوزیشن کا چارٹر آف ڈیمانڈ سامنے آگیا، ن لیگ اور جے یو آئی(ف) کا دوٹوک اعلان

datetime 8  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) حزب اختلاف کی رہبر کمیٹی کے کنوینئر اکرم خان درانی نے کہا ہے کہ حکمران کشمیر کے بعد ملک کا ہر اثاثہ بیچ رہے ہیں، خوف ہے کہ پاکستان کو بھی نہ بیچ دیں۔اپوزیشن جماعتیں حکومت کا خاتمہ اور وزیراعظم کے استعفے کے بعد فوری انتخابات چاہتی ہیں۔ رہبر کمیٹی اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں اکرم خان درانی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنسز ہوئیں جن میں فیصلہ کیا گیا کہ اس حکومت کا خاتمہ کرنا ہے۔

اکرم خان درانی کہا کہ اس حکومت نے لوگوں کو بیروزگار کیا اور کارخانے بند ہیں،مزدور طبقے کو روزگار نہیں مل رہا، کے پی کے کے تمام ڈاکٹرز 12 روز سے ہڑتال پر ہیں۔ 22 ہزار اساتذہ احتجاج پر ہیں۔ میڈیا پر قدغن لگائی جا رہی ہیں۔جے یو آئی رہنما نے کہا کہ اسٹیل مل اور پی آئی اے کی نجکاری کا کہہ رہے ہیں، یہ کشمیر کے بعد ملک کے ہر اثاثیکو بیچ رہے ہیں، خوف ہے کہ پاکستان کو بھی نہ بیچ دیں۔ایک سوال کے جواب میں اپوزیشن رہنما نے کہا کہ حزب اختلاف کی تمام جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ اس حکومت کا فوری خاتمہ ہو اور وزیراعظم مستعفی ہوجائیں۔اکرم خان درانی نے کہا کہ فوری طور پر نئے انتخابات کرانے اور ان میں اداروں کی کسی قسم کی مداخلت نہ کرنے کا بھی مطالبہ ہے۔جے یو آئی کے رہنما نے کہا کہ احتجاج ہمارا آئینی حق ہے پہلے بھی بہت احتجاج کیے،جتنے مارچ جے یو آئی نے کیے کوئی شیشہ نہ ٹوٹا۔دوسری طرف انہوں نے پہلے سرکاری ٹی وی پر حملہ کیا۔ پھر پارلیمنٹ پر چڑھ دوڑے۔مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت نے سی پیک اتھارٹی کا آرڈیننس جاری کیا ہے،حکومت پارلیمنٹ جو مسلسل نظرانداز کرکے بیک ڈور قانون سازی کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک پارلیمانی کمیٹی نے اتفاق رائے سے بل کو مستعد کرکے نظرثانی کا کہا تھا،سی پیک جیسے منصوبے کو متنازع کرنے کی کوشش کی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی سے وزارتوں کے دوران رسہ کشی شروع ہوجائے گی،سی پیک کو اتھارٹی نہیں فنڈز کی ضرورت ہے۔ ایم ایل ون بنانے کیلئے سالانہ سو ارب سے زائد بجٹ درکار ہے،اس سال ریلوے کا ترقیاتی بجٹ چالیس ارب سے سولہ ارب کر دیا گیا۔ حکومت نے قومی منصوبے پر ملک دشمنی کا مظاہرہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…