منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

نوازشریف اور مریم نوازکو ڈیل کیلئے راضی کر لوں گا بدلے میں مجھے پنجاب حکومت دیں ، سابق وزیراعلیٰ اسٹیبلشمنٹ کیساتھ ملکر کیا سودے بازی کر رہے ہیں؟بڑا دعویٰ سامنے آگیا

datetime 7  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی ہارون الرشید کا’’مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا‘‘میں کہنا ہے کہ پہلے تو آہ و بکا سنائی دی اب وضاحتوں کا سلسلہ جاری ہے۔یہ کہ کاروباریوں نے آرمی چیف سے حکومت کی شکایت نہیں کی،اگر ایسا نہیں تھا تو اس کی فوراََ تردید کیوں نہیں کی گئی۔

سچائی شاید بیچ میں پڑی سسک رہی ہے۔تجاویز پیش کیں۔بعض باتوں مثلا شناختی کارڈ کی شرط پہ روہانسے بھی ہوئے۔مگر ایسا بھی نہیں کہ احتجاج کیلئے بہت بلند ہو۔ تھیوری یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو اسٹیبلشمنٹ تھپکی دے رہی ہے۔دلیل یہ ہے کہ احتساب عدالت پر دونوں کا اندازِ فکر مختلف ہے۔ان لوگوں کے بقول اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ زرداری اور نواز شریف سے ’’ کچھ لو اور دو ‘‘ کی بنیاد پر معاملہ طے کر لیا جائے گا۔دونوں بلکہ تینوں یعنی مریم نواز بھی مقررہ مدت کے لیے ملک سے باہر چلی جائیں۔ملک میں سکون اور قرار ہو۔بے یقینی کا خاتمہ ہو جائے۔بے چینی تحلیل ہو اور معیشت کا پہیہ ، قدرے زیادہ تیزی سے حرکت کرنے لگے۔ہارون الرشید مزید لکھتے ہیں کہ سوال یہ ہے کہ زیادہ عزم کے ساتھ بروئے کار تو مولانا فضل الرحمن ہیں۔پیپلز پارٹی الگ کھڑی ہے اور نون لیگ منقسم۔شہاز شریف کا اندازفکر دوسرا ہے۔ان کا احساس یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی میں ن لیگ کی زیادہ نشستیں تھیں۔سودا ہو جائے تو آزاد ارکان ن لیگ کی طرف لپک سکتے ہیں۔سب سے بڑے صوبے میں تب حکومت وہ تشکیل دے سکتے ہیں۔اگر شہباز شریف اس کے نگران ہوں تو اسٹیبلشمنٹ کو کبھی کوئی پریشانی لاحق نہ ہو گی۔وفا شعار ہیں اورخدمت گزار بھی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…