اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

کیسے جوڑوں کے بچے جو خود فکری یا آٹزم کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں؟

datetime 11  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )والدین کی عمر کس قدر پیدا ہونے والے بچوں پر اثرانداز ہوتی ہے شاید کبھی آپ نے سوچا بھی نہ ہو۔ ایک تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ40سال سے زیادہ عمر کے جوڑوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچے خود فکری یا آٹزم کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔15سال سے کم عمر ماﺅں اور میاں بیوی کی عمروں میں زیادہ فرق ہونے کی صورت میں بھی بچوں میں یہ بیماری عموماً پائی جاتی ہے۔ تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ 50سال سے زیادہ عمر کے والدین کے ہاں 66فیصد بچے خود فکری کی بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور اپنے ماحول سے ان کا ذہنی رابطہ بہت کمزور ہوتا ہے۔ تحقیق کاروں کو تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کم عمر اور زیادہ عمر والی ماﺅں اور عمروں میں زیادہ فرق والے والدین کے ہاں بچوں میں یہ بیماری کیوں زیادہ پائی جاتی ہے۔تحقیقاتی ٹیم کے رکن مائیکل روزنوف کا کہنا ہے کہ ہم نے اس تحقیق میں آٹزم کی بیماری اور والدین کی عمروں کااحاطہ کیا ہے، اس کے علاوہ کسی پہلو کو تحقیق میں شامل نہیں کیا، ہم نے اس تحقیق کے لیے دنیا بھر سے ڈیٹا اکٹھا کیا۔ ڈاکٹر سٹیو سینڈن نے کہا کہ اگرچہ والدین کی عمریں زیادہ تر بچوں میں آٹزم کا باعث بنتی ہیں لیکن ضروری نہیں ہے کہ کم یا زیادہ عمر کے والدین کے ہاں پیدا ہونے والا ہر بچہ اس بیماری کا شکار ہو۔ہم نے تحقیق کے لیے ڈنمارک، اسرائیل، ناروے، سویڈن اور مغربی آسٹریلیا سے 57لاکھ 66ہزار 794بچوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا جن میں سے 30ہزار اس بیماری کا شکار تھے۔ جب تحقیق میں ثابت ہوا کہ والدین کی عمر، شادی کی عمر اور والدین کی عمروں میں فرق آٹزم کا باعث ہیں تو ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان میں سے کون سا عنصر اس بیماری کا سب سے زیادہ باعث بنتا ہے۔مزید تحقیق کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ والدین کی عمر اس بیماری کا سب سے بڑا سبب ہے، وہ عمر15سال سے کم ہونے کی صورت میں ہو یا 40سال سے زیادہ ہونے کی صورت میں۔ 50سال سے زیادہ عمر کے والدین کے ہاں 66فیصد اور 40سال کے والدین کے ہاں28فیصد بچے خودفکری کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ 15سال سے کم عمر ماﺅں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں میں یہ تناسب 18فیصد پایا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…