اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

پشاور، خودکش دھماکے میں دو اہلکار شہید ، ڈپٹی کمانڈنٹ ملک طارق سمیت 7 اہلکار زخمی

datetime 11  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پشاور میں ڈپٹی کمانڈنٹ ایف آر پی ملک طارق کی گاڑی پر خودکش حملہ ، ملک طارق سمیت سات افراد زخمی ، ڈپٹی کمانڈنٹ کے دو گن مین حملے میں شہید ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمانڈنٹ ایف آر پی کی گاڑی کو حیات آباد فیز فائیو میں نشانہ بنایا گیا۔ ایس ایس پی آپریشنز ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق دھماکہ موٹر سائیکل پر سوار خودکش حملہ آور نے کیا۔ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس سے ڈپٹی کمانڈنٹ کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی جبکہ قریبی گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پولیس نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا۔ زخمیوں میں ڈپٹی کمانڈنٹ ایف آر پی ملک طارق بھی شامل ہیں جبکہ ان کے دو گن مین لال بادشاہ اور اقتدار حسین شہید ہوگئے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق دھماکے کے سات زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں ڈپٹی کمانڈنٹ ملک طارق ، ان کا ڈرائیور ، دو گن مین ، دو شہری اور ایک نامعلوم شخص شامل ہے۔ اے آئی جی بم ڈسپوزل یونٹ کے مطابق دھماکہ خودکش تھا۔ موٹر سائیکل سوار خود کش بمبار نے خودکش جیکٹ پہنی ہوئی تھی جس کا وزن سات کلو گرام تک تھا۔ جائے وقوعہ سے خودکش بمبار کے اعضاءمل گئے جبکہ دیگر شواہد اکھٹے کئے جا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…