جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

ملک کہاں تھا اور کہاں پر لا کے کھڑا کر دیا گیا، قانون آرڈیننس کے ذریعے بنانے ہیں تو پارلیمان کو بند کر دیں،جسٹس فائز عیسیٰ کے اہم ریمارکس

datetime 24  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ نے کے پی میں جنگلات کی کٹائی سے متعلق کیس میں جنگلات کی ملکیت کے دعوی داروں کی درخواستیں خارج کر دیں۔ منگل کو سپریم کورٹ میں کے پی میں جنگلات کی کٹائی سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ حکومت کو اس کیس میں نظر ثانی کیلئے آنا چاہیے تھا آپ کا حق دعوی نہیں بنتا۔ انہوں نے کہاکہ 2013 کا فیصلہ ہے اس پر عمل کیوں نہیں ہوا؟ انہوں نے کہاکہ جنگلات کا تحفظ آنیوالی نسلوں کے مستقبل کیلئے ضروری ہے، انہوں نے کہاکہ جنگلات سے متعلق تمام قوانین کرپشن کے تحفظ کیلئے بنائے گئے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کہاں تھا اور کہاں پر لا کے کھڑا کر دیا گیا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ حکمران دیگر مسائل میں الجھے ہوئے ہیں اصل مسئلہ ماحول کا تحفظ ہے،اتنا اہم قانون آرڈیننس کے ذریعے کیوں لایا گیا؟۔ انہوں نے کہاکہ قانون آرڈیننس کے ذریعے بنانے ہیں تو پارلیمان کو بند کر دیں ،خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان میں کم جنگلات رہ گئے ہیں انھیں بھی ویران کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈکٹیٹر کے قانون کو کوئی چھونے کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک ڈکٹیٹر آکر دو منٹ میں پارلیمنٹ کو اڑا دیتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج کل کے ماحول میں آزادی سے کوئی بات بھی نہیں کر سکتے،ان مقدمات میں ہر آدمی جھوٹا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جنگلات کاٹنے والے لوگ نسلوں کو قتل کر رہے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے جنگلات کی ملکیت کے دعوی داروں کی درخواستیں خارج کر دیں ۔ عدالت نے کہاکہ درخواست گزاروں نے کیس کی سماعت کے دوران کسی سطح پر اپنا حق نہیں مانگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…