منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

سونے کی بالیاں بیچ کر بچے کی گمشدگی کے اشتہار لگوائے، بچے کی سی سی ٹی وی فوٹیج ایس ایچ او اور ڈی پی او کو دکھائی، چونیاں میں ایک بچے کی غمزدہ والدہ نے افسوسناک تفصیلات بتا دیں

datetime 23  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چونیاں میں غمزدہ والدین میں سے ایک والدہ نے ایک نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ میرا بیٹے اپنے والد کے ساتھ ہی کام کرتا تھا لیکن اس دن چار بجے میرا شوہر تو آ گیا لیکن میرا بیٹا ساتھ نہ آیا، میرا بیٹا ایک پل بھی میرے بغیر نہیں رہتا تھا، جب میں نے شوہر سے پوچھا کہ علی حسنین کدھر ہے تو اس کے والد نے بتایا کہ تمہیں پتہ تو تمہارا بیٹا خود ہی آ جاتا ہے لیکن میں نے اس کے والد افضل سے کہا کہ نہیں تم جاؤ اسے لے آؤ،

جب وہ گھر نہ آیا تو ہم نے اس کی تلاش شروع کر دی، بچے کی والدہ نے کہا کہ اس کی سی سی ٹی وی ویڈیو ہر کسی کو دکھائی، ایس ایچ او، ڈی پی او اور سب پولیس والوں کو دکھائی کہ میرے بیٹے کا کچھ کر دو۔ اس کی والدہ نے کہا کہ آگے سے ان لوگوں نے کہا کہ ہم تفتیش اور تلاش کر رہے ہیں، اس موقع پر غمزدہ ماں نے کہا کہ میں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہوں اور میری سونے کی بالیاں تھیں وہ بچے کی گمشدگی کا اشتہار بنوانے کے لیے بیچ دیں، ہر جگہ پر خود اشتہار لگا کر آئی ہوں، اس کی والدہ نے بتایا کہ اپنے بچے کو زندہ پانے کے لیے میں نے ہر طرح کی کوشش کی لیکن پولیس والوں نے میرے بچے کے کپڑے مجھے پہچاننے کے لیے دئیے جو میں نے پہچان لئے لیکن اس کے بعد کوئی چیز مجھے نہیں دی گئی، غمزدہ والدہ نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مجھے جلد از جلد بچے کی کوئی چیز دی جائے تاکہ میں اپنے بچے کی قبر پر جا کر دعا تو مانگ سکوں۔ بچے کے اغوا ہو جانے کے بعد تھانے گئے اور درخواست دی جس پر پولیس والوں نے کہا کہ آپ گھر جاؤ ہم کچھ کرتے ہیں لیکن انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا، دوسرے دن گئی ان لوگوں کی منت سماجت کی اور کہا کہ بھائیوں میرے بچے کا کچھ کر دو۔ بچے کی والدہ نے کہا کہ میں پورے ضلع میں گئی لیکن میری کسی نے کوئی بات نہیں سنی۔ اس موقع پر غمزدہ والدہ نے کہا کہ اگر پولیس پہلے اغوا ہونے والے بچے کے بارے میں تفتیش کر لیتی تو دوسرا بچہ اغوا نہ ہوتا اور پھر تیسرا بھی نہ ہوتا لیکن پولیس نے کچھ نہیں کیا۔ علی حسنین کی غمزدہ والدہ نے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میرے بچے کے قاتل کو جلد از جلد گرفتار کرکے میری آنکھوں کے سامنے لایا جائے اور مجھے انصاف دلایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…