ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

اٹلی میں طالب علموں کے لیے ’منفرد‘ ہوم ورک

datetime 9  جون‬‮  2015 |

میلان(نیوزڈیسک)سکول استاد سیزر کاٹا کا خیال ہے کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں طالب علموں کو نصابی سرگرمیوں میں کم وقت صرف کرنا چاہیےایک اطالوی استاد نے اپنے طالب علموں کو معمول کے مطابق چھٹیوں کا نہ دینے فیصلہ کیا ہے اور انھیں زندگی کے مشوروں پر مشتمل ایک فہرست فراہم کی ہے۔اٹلی میں وسط جون سے وسط ستمبر تک سکولوں میں گرمیوں کی تین مہینے کی چھٹیوں میں بیشتر طالب علموں کو سکول کا کام دیا جاتا ہے۔لیکن اٹلی کے وسطی علاقے لے مارچے کے ایک سیکنڈری سکول استاد سیزر کاٹا کا خیال ہے کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں طالب علموں کو نصابی سرگرمیوں میں کم وقت صرف کرنا چاہیے۔پندرہ نکات پر مشتمل گھر کے کام کی فہرست میں وہ کہتے ہیں: ’کم از کم ایک بار صبح کے وقت سورج نکلتا ہوا دیکھیں۔‘ان کی یہ 15 نکات پر مشتمل فہرست انٹرنیٹ پر بہت زیادہ شیئر کی جارہی ہے۔اس فہرست میں طالب علموں کو صبح کے وقت ساحل سمندر پر چہل قدمی کرنے کا بھی کہا گیا کہ وہ ’اس دوران سوچیں کہ وہ زندگی میں کس سے محبت کرتے ہیں،‘ اس کے علاوہ جب ان کا جی چاہے تو بلاجھجک رقص کریں کیونکہ ’گرمیاں ایک رقص کی طرح ہیں، اور ان کا حصہ نہ بننا بے وقوفی ہے۔‘پندرہ نکات پر مشتمل یہ فہرست انٹرنیٹ پر بہت زیادہ شیئر کی جارہی ہے سیزر کاٹا یہ بھی نہیں چاہتے کہ ان کے طالب سکول کو بالکل بھول جائیں۔ وہ اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ طالب علم وسیع مطالعہ کریں اور گذشتہ برس سیکھے گئے نئے الفاظ اور اصلاحات کا استعمال کریں۔ وہ کہتے ہیں: ’آپ جتنی زیادہ چیزوں کے بارے میں بات کریں گے

02

، اتنا زیادہ آپ سوچ سکیں گے، اور جتنی زیادہ چیزوں کے بارے میں آپ سوچ سکیں گے، اتنا زیادہ ہی اپنے آپ کو آزاد محسوس کریں گے۔‘اس استاد کی فیس بک پوسٹ تقریباً تین ہزار بار شیئر کی جا چکی ہے اور اس کی حمایت میں سینکڑوں تبصرے کیے جا چکے ہیں۔ایک تبصرہ ہے: ’کاش میرا استاد بھی آپ جیسا ہوتا جو درون بینی کی حوصلہ افزائی کرتا۔‘اس پوسٹ نے کئی والدین کو بھی متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ فہرست اپنے بچوں کو بھی دکھائی ہے۔ ایک فیس بک صارف لکھتے ہیں: ’گھر کا کام ساری عمر کا ہے، کسی ایک موسم کا نہیں۔‘ جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا: ’اگر استاد آپجیسا ہے تو میں کل سے دوبارہ سکول جارہا ہوں۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…