پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

برما میں مسلمانوں کی نسل کشی پنجاب اسمبلی میں قابل تحسین اقدام

datetime 9  جون‬‮  2015 |

لاہور (نیوزڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی مولانامحمد الیاس چنیوٹی نے برما میں مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرار داد جمع کرادی۔قرار داد میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت برما کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی روک تھام کے خلاف بھر پور آواز بلند کرتے ہوئے اسلامی سربراہی کانفرنس بلانے کے لئے مسلم ممالک سے رابطے کرے۔قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت فوری طور پر ایک اعلیٰ سطح کا وفد برما بھیجے،جو برمی حکومت سے مطالبہ کرے کہ مسلمانوں پر بہیمانہ مظالم بند کرتے ہوئے انہیں شہری حقوق دیے جائیں۔میڈیاکے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا الیاس چنیوٹی نے کہا کہ برما میں بدھسٹ دہشتگرد تنظیم ویرانتھو سمیت 970تنظیمیں مسلمانوں کا قتل عام کر رہی ہیں۔ویرانتھو نے 2015میں 15ہزار مسلمانوں کو قتل کیا جبکہ 2009سے اب تک یہ تنظیم ڈھائی لاکھ مسلمانوں کو شہید کر چکی ہے،جن میں 3ہزار بچے بھی شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ برما میں درندگی کا رقص جاری ہے، خواتین اور لڑکیوں کو شوہروں ،بھائیوں اورو الدین کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنا کر زندہ جلایا جا رہا ہے۔بچوں کو ماﺅں کے سامنے گاجر ‘مولی کی طرح کاٹ کر آگ میں پھینکا جا رہا ہے۔مردوں کو پورے خاندان کے سامنے تیزاب پھینک کر جلایا جا رہا ہے جبکہ ڈرل مشینوں سے ان کے جسموں میں سوراخ کر کے اذیت ناک طریقے سے شہید کیا جارہا ہے۔ہزاروں مسلمان کشتیوں پر در بدر سمندر میں زندگیاں ہا ررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اراکان کی سرسبز دھرتی کو خون میں نہلا کر اسے مقتل گا ہ بنا دیا گیا ہے ،برما میں آج کے دور کی کربلا برپا ہے۔دل دہلا دینے والے خونیں مناظر سے انسانیت بھی شرما گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق برما میں مقیم ساڑھے سات لاکھ روہنگیا مسلمان دنیا بھر مں سب سے زیادہ مظلوم اقلیت ہیں۔انہوں کہا کہ مسلمانوں کی بہیمانہ قتل و غارت پر اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کی چشم پوشی اورخاموشی شرمناک ہے ۔وقت آگیا ہے کہ نیل کے ساحل سے لےکر تابخاک کاشغر ،مسلمان ایک ہو جائیں اور خودمسلم امہ کے جان ومال کا تحفظ کریں ورنہ ایک ایک کر کے سب مارے جائینگے اور پھر داستان نہ ہو گی داستانوں میں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…