منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

برما میں مسلمانوں کی نسل کشی پنجاب اسمبلی میں قابل تحسین اقدام

datetime 9  جون‬‮  2015 |

لاہور (نیوزڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی مولانامحمد الیاس چنیوٹی نے برما میں مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرار داد جمع کرادی۔قرار داد میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت برما کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی روک تھام کے خلاف بھر پور آواز بلند کرتے ہوئے اسلامی سربراہی کانفرنس بلانے کے لئے مسلم ممالک سے رابطے کرے۔قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت فوری طور پر ایک اعلیٰ سطح کا وفد برما بھیجے،جو برمی حکومت سے مطالبہ کرے کہ مسلمانوں پر بہیمانہ مظالم بند کرتے ہوئے انہیں شہری حقوق دیے جائیں۔میڈیاکے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا الیاس چنیوٹی نے کہا کہ برما میں بدھسٹ دہشتگرد تنظیم ویرانتھو سمیت 970تنظیمیں مسلمانوں کا قتل عام کر رہی ہیں۔ویرانتھو نے 2015میں 15ہزار مسلمانوں کو قتل کیا جبکہ 2009سے اب تک یہ تنظیم ڈھائی لاکھ مسلمانوں کو شہید کر چکی ہے،جن میں 3ہزار بچے بھی شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ برما میں درندگی کا رقص جاری ہے، خواتین اور لڑکیوں کو شوہروں ،بھائیوں اورو الدین کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنا کر زندہ جلایا جا رہا ہے۔بچوں کو ماﺅں کے سامنے گاجر ‘مولی کی طرح کاٹ کر آگ میں پھینکا جا رہا ہے۔مردوں کو پورے خاندان کے سامنے تیزاب پھینک کر جلایا جا رہا ہے جبکہ ڈرل مشینوں سے ان کے جسموں میں سوراخ کر کے اذیت ناک طریقے سے شہید کیا جارہا ہے۔ہزاروں مسلمان کشتیوں پر در بدر سمندر میں زندگیاں ہا ررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اراکان کی سرسبز دھرتی کو خون میں نہلا کر اسے مقتل گا ہ بنا دیا گیا ہے ،برما میں آج کے دور کی کربلا برپا ہے۔دل دہلا دینے والے خونیں مناظر سے انسانیت بھی شرما گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق برما میں مقیم ساڑھے سات لاکھ روہنگیا مسلمان دنیا بھر مں سب سے زیادہ مظلوم اقلیت ہیں۔انہوں کہا کہ مسلمانوں کی بہیمانہ قتل و غارت پر اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کی چشم پوشی اورخاموشی شرمناک ہے ۔وقت آگیا ہے کہ نیل کے ساحل سے لےکر تابخاک کاشغر ،مسلمان ایک ہو جائیں اور خودمسلم امہ کے جان ومال کا تحفظ کریں ورنہ ایک ایک کر کے سب مارے جائینگے اور پھر داستان نہ ہو گی داستانوں میں۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…