پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

امریکہ کی جانب سے سعودی تیل کی تنصیبات پر حملوں کا الزام ایران پر عائد کئے جانے پر چین کا شدید ردعمل سامنے آ گیا، دو ٹوک اعلان

datetime 16  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سعودی عرب میں آئل ریفائنری پر حملے سے متعلق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا جس پر چین کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے، میڈیا ذرائع کے مطابق چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بغیر کسی جامع تحقیقات کے کسی کارروائی کے خلاف ہیں، چینی وزارت خارجہ کے مطابق کشیدگی میں اضافے کے کسی بھی اقدام کی حمایت نہیں کرتے، امریکہ اور ایران مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لئے احتیاط سے کام لیں،

واضح رہے کہ ایران نے سعودی تنصیبات پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید کردی، ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ان حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر الزام لگانے سے یمن میں جاری المیہ ختم نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں پاکستان میں قائم ایرانی سفارت خانے سے جب رابطہ کیا گیا تو ایرانی سفارت خانے کی میڈیا سیکشن کی سربراہ ڈاکٹر ہاہینہ کریمی کیا کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر ہونے والے تمام واقعات پر ایرانی وزارت خارجہ بذات خود جواب دیتا ہے، انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی جانب سے امریکی الزام کا جواب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے میں ملوث ہونے کی یکسر نفی کرچکے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے سوشل میڈیا پر ٹویٹر کے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیپیو ایران پر براہ راست دباؤ ڈالنے میں ناکام ہوچکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ یا اسکے حلیف یمن میں بری طرح پھنس چکے ہیں، ایران پر ایسے حملوں کے الزاما ت عائد کرنے سے معاملات حل نہیں ہونگے، امریکہ کیلئے بہتر ہوگا کہ وہ ایران کی جانب سے 15اپریل کو تجویز کردہ معاہدے پر غور کرے، دوسری جانب امریکہ نے بھی اس با ت کا عندیہ دیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھی ایران کے ساتھ بات چیت کرناممکن ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ میں کہا امریکی حکام سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے حوالے واقف ہیں

تاہم وہ سعودی عرب کا جوا ب سننے کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ ان حملوں کا ذمہ دار کسے سمجھتے ہیں اور اس بارے میں کیا کرنا چاہتے ہیں۔سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد اس کی تیل پیدوار کی صلاحیت آدھی ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے سوموار کو تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا۔تاہم سعودی عرب کی جانب سے حوثی حملوں کے حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم رواں ماہ کے آخر میں نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امریکی صدر اور ایرانی صدر حسن روحانی کے مابین سائیڈ لائن ملاقات متوقع ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…