بدھ‬‮ ، 20 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاک بھارت تنازع !امریکی سینیٹرز نے ٹرمپ کو خط لکھ دیا ، کیا مطالبہ کردیا ؟ جانئے

datetime 14  ستمبر‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکا کے نمایاں سینیٹرز اور اراکین کانگریس مسئلہ کشمیر اور پاکستان اور بھارت کے مابین دیگر تنازعوں کے حل کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تعمیری کردار ادا کرنے کامطالبہ کررہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کو ارسال کردہ خط میں سینیٹر کرس وین ہولین

ٹوڈ ینگ، بین کارڈین اور لنڈسے گراہم نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کے الحاق کے بعد گرفتار افراد کی رہائی کے لیے اپنا اثر رسوخ استعمال کریں۔خط میں انہوں نے لکھا کہ ہم درخواست کرتے ہیں کہ آپ وزیراعظم نریندر مودی سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد گرفتار کی گئی کشمیری قیادت کی رہائی، ٹیلی مواصلات اور انٹرنیٹ سروس کی مکمل بحالی اور محاصرہ اور کرفیو ختم کرنے کا مطالبہ کریں۔صدر ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ ہماری تحریر کا مقصد کشمیر کی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کرنا ہے جو جمہوریت، انسانی حقوق اور خطے کے استحکام کے لیے خطرناک ہے۔خط میں مزید کہا گیا کہ جہاں ہم آپ کے اس مقصد کی حمایت کرتے ہیں کہ فریقین کے ساتھ مل کر کشمیر کی حیثیت کا طویل مدتی حل نکالا جائے ، وہیں ہم آپ پر زور دیتے ہیں کہ وہاں جاری انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری کردار ادا کیا جائے۔خط میں دستخط کرنے والوں میں صدر ٹرمپ کے قریبی مشیر برائے جنوبی ایشیائی امور سینیٹر لنڈسے گراہم وار کراچی میں پیدا ہونے والے سینیٹر وین ہولین بھی شامل ہیں جنہوں نے امریکی صدر کو ان کی 22 جولائی کی بھارت اور پاکستان کے مابین کشمیر تنازع پر ثالثی کی پیشکش یاد دلائی۔سینیٹرز نے اپنے خط میں اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ 5 اگست کو بھارتی حکومت نے جموں کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی آئین کی دفعہ 370 کو یک طرفہ طور پر ختم کیا۔خط میں ذکر کیا گیا کہ دفعہ 370 کے خاتمے سے قبل بھارت نے وادی میں ہزاروں اضافی فوجیوں کو تعینات کیا، رہائشیوں پر کرفیو نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ علاقے میں فون اور انٹرنیٹ سمیت مواصلاتی رابطے منقطع کردیے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…