جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

طالبان سے مذاکرات کی منسوخی کے بعد اب ہم کیا کریں گے؟امریکہ کھل کر سامنے آگیا، دھماکہ خیز اعلان

datetime 9  ستمبر‬‮  2019 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ ان کا ملک افغانستان میں قیام امن کے لیے طالبان پر اپنے وعدوں پر عمل پیرا ہونے کے لئے دباؤ ڈالتا رہے گا۔ فی الحال امریکا افغان فورسز کے لئے فوجی مدد کم نہیں کرے گا۔امریکی ٹی وی کو انٹرومیں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ اگر طالبان ہم سے کیے ہفتوں پہلے کے اپنے وعدوں کی تعمیل نہیں کرتے ہیں۔ افغان صدر پردباؤ کم نہیں کرتے تو ہم افغان سیکیورٹی فورسز کے لیے اپنی مدد جاری رکھیں گے۔

قبل ازیں افغان طالبان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امن مذاکرات منسوخ کر نے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکہ اور افغان طالبان کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان مذاکرات پایہ تکمیل کو پہنچ گئے تھے، معاہدے پر دستخط کی تاریخ 23ستمبر طے تھی، مذاکرات کر نے سے سب سے زیادہ نقصان خود امریکہ کو ہوگا، اس پر اعتبار نہیں رہے گا،اب بھی مفاہمت کی پالیسی کے موقف پر قائم ہیں،یقین ہے امریکہ دوبارہ مذاکرات کا راستہ اپنائیگا۔ اتوار کو افغان طالبان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امن مذاکرات منسوخ کر نے پر رد عمل کا ظاہر کر تے ہوئے کہا کہ طالبان اور امریکہ کی مذاکراتی ٹیم کے درمیان انتہائی مفید مذاکرات ہونے کے بعد امن معاہدہ مکمل تیار تھا۔امریکی مذاکراتی ٹیم سات ستمبر تک ہونے والی پیشرفت سے راضی تھی اور اچھے ماحول میں مذاکرات پایہ تکمیل کو پہنچ گئے تھے دونوں فریقین معاہدے کے اعلان اور دستخط کیلئے تیاریوں میں مصروف تھے۔معاہدے پر دستخط اور باضابطہ اعلان کے بعد 23ستمبر کو بین الافغانی مذاکرات کیلئے تاریخ طے ہوگئی تھی۔خطے اور دیگر ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے اس مذاکراتی عمل کی حمایت کی تھی۔اب جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل روک لیا ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان خود امریکہ کو ہوگا اس پر اعتبار کو نقصان پہنچے گا۔انہوں نے کہاکہ امریکہ کا امن کے خلاف موقف دنیا پر ظاہر ہوجائیگا ان کے جان و مان کے نقصان میں اضافہ اور سیاسی معاملات میں ان کا کر دار متزلزل ہو جائیگا۔

مذاکرات جاری رکھنے سے طالبان نے دنیا پرثابت کر دیا کہ لڑائی ان پر زبردستی تھونپی گئی ہے اور یہ کہ لڑائی کو سیاسی عمل سے ختم کر نے کا معاملہ ہو تو طالبان اپنے اس موقف پر قائم ہیں۔ معاہد ے کے اعلان سے پہلے کابل میں ایک دھماکے کی بنیاد پر مذاکراتی عمل روکنا غیر منطقی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔بیان میں کہاگیاکہ کابل میں دھماکے سے پہلے امریکی اور ان کے حمایتی افغان سکیورٹی فورسز نے بہت سے حملوں میں سینکڑوں افغانوں کو شہید کیا۔صدر ٹرمپ کی جانب سے

زلمے خلیل زاد کے ذریعے طالبان کو اگست مہینے کے آخر میں امریکہ کے دورے کی دعوت دی گئی تھی لیکن طالبان نے معاہدے پر دستخط تک یہ دعوت معطل رکھی تھی۔طالبان کی غیر متزلزل اور پختہ موقف ہے کہ ہم نے پہلے بھی مفاہمت کی بات کی تھی اور آج بھی اس موقف پر قائم ہیں، ہمیں یقین ہے کہ امریکہ بھی دوبارہ مذاکرات کا راستہ اپنائیگا۔طالبان نے کہاکہ گزشتہ اٹھارہ سال سے ہماری جدوجہد نے امریکہ پر ثابت کر دیا ہے کہ ہم غیر ملکی جارحیت کو ختم کر کے دم لینگے اس بڑے مقصد کیلئے ہم نے مسلح جدوجہد جاری رکھی ہے اور اسی راستے پر ہمارا مکمل یقین ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…