پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

کراچی ،نامعلو م افراد کی موبائل پر فائرنگ ، ڈی ایس پی مجید عباسی جاں بحق

datetime 9  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)کراچی میں دہشت گردوں کی اندھا دھند فائرنگ سے سانحہ بلدیہ فیکٹری کے تفتیشی ٹیم کے اہم رکن ڈی ایس پی مجید عباس جاں بحق ہوگئے،وزیراعلیٰ سندھ قائم علی نے واقعہ کی شدید مذمت کی اور رپورٹ طلب کرلی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کے روز ڈی ایس پی مجید عباس اپنی رہائش گاہ کراچی علاقے ظفرٹاﺅن سے دفتر جارہے تھے کہ لانڈھی شاہ لطیف ٹاﺅن کے علاقے مظفر آباد کالونی میںنامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پولیس موبائل پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئے۔پولیس کے مطابق ڈی ایس پی مجید عباس خود ڈرائیور کرتے ہوئے گھر سے دفتر جارہے تھے کہ2 موٹر سائیکل سواروں نے ریکی کی اور شاہ لطیف ٹاﺅن کے علاقے میں اپنے ہدف کو مکمل کیا۔واقعہ کے بعدپولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے گھیرے میں شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیئے،رپورٹ کے مطابق پولیس نے علاقے کے اندرونی و بیرونی ناکوں پر سکیورٹی سخت کر دی ہے اور ملزمان کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاہم آخری اطلاع ملنے تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہ آ سکی۔رپورٹ کے مطابق ڈی ایس پی مجید عباس سائیڈ ایریا میں بطور ڈی پی او اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور سانحہ بلدیہ فیکٹری کی تفتیشی ٹیم کے بھی ممبر تھے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ڈی ایس پی مجید عباس کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور صوبائی وزیر داخلہ سہیل سیال سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ملزمان کی گرفتاری تمام تر اقدامات بروئے کار لائے جائیں اور انہیں جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…