منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

کراچی ،نامعلو م افراد کی موبائل پر فائرنگ ، ڈی ایس پی مجید عباسی جاں بحق

datetime 9  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)کراچی میں دہشت گردوں کی اندھا دھند فائرنگ سے سانحہ بلدیہ فیکٹری کے تفتیشی ٹیم کے اہم رکن ڈی ایس پی مجید عباس جاں بحق ہوگئے،وزیراعلیٰ سندھ قائم علی نے واقعہ کی شدید مذمت کی اور رپورٹ طلب کرلی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کے روز ڈی ایس پی مجید عباس اپنی رہائش گاہ کراچی علاقے ظفرٹاﺅن سے دفتر جارہے تھے کہ لانڈھی شاہ لطیف ٹاﺅن کے علاقے مظفر آباد کالونی میںنامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پولیس موبائل پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئے۔پولیس کے مطابق ڈی ایس پی مجید عباس خود ڈرائیور کرتے ہوئے گھر سے دفتر جارہے تھے کہ2 موٹر سائیکل سواروں نے ریکی کی اور شاہ لطیف ٹاﺅن کے علاقے میں اپنے ہدف کو مکمل کیا۔واقعہ کے بعدپولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے گھیرے میں شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیئے،رپورٹ کے مطابق پولیس نے علاقے کے اندرونی و بیرونی ناکوں پر سکیورٹی سخت کر دی ہے اور ملزمان کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاہم آخری اطلاع ملنے تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہ آ سکی۔رپورٹ کے مطابق ڈی ایس پی مجید عباس سائیڈ ایریا میں بطور ڈی پی او اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور سانحہ بلدیہ فیکٹری کی تفتیشی ٹیم کے بھی ممبر تھے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ڈی ایس پی مجید عباس کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور صوبائی وزیر داخلہ سہیل سیال سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ملزمان کی گرفتاری تمام تر اقدامات بروئے کار لائے جائیں اور انہیں جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…