منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

شفقت حسین کی سزائے موت پر عملدرآمد چوتھی بار موخر

datetime 9  جون‬‮  2015 |

کراچی (نیوز ڈیسک)سزائے موت کے قیدی شفقت حسین کی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے منظور کرلی گئی ہے جس کے بعد پیر اور منگل کی درمیانی شب کو شفقت حسین کی سزا پر عملدرآمد ایک بار پھر موخر کر دیا گیا ہے۔پیر کو شفقت حسین کی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف درخواست سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے منظور کرلی گئی۔اس مقدمے کی سماعت منگل کو چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کرے گی۔شفقت حسین کی عمر کے تنازعے کو بنیاد بناکر سزائے موت کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے اس درخواست کو سماعت کے لیے منظور کیے جانے کے بعد شفقت حسین کی سزا پر عملدرآمد چوتھی بار موخر کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ کراچی کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے سات سالہ بچے کے اغوا اور قتل کے مجرم شفقت حسین کے بلیک وارنٹ جاری کیے تھے جس کے تحت 9 جون یعنی منگل کو ان کو کراچی سینٹرل جیل میں پھانسی دی جانی تھی۔امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق جیل حکام کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں شفقت حسین کی سزائے موت کے خلاف درخواست کی سماعت کی منظوری کے بعد سزا پر عملدرآمد موخر کیا گیا ہے۔جیل حکام کا کہنا تھا کہ شفقت حسین کو کراچی سینٹرل جیل میں منگل کی صبح پھانسی دی جانی تھی۔واضح رہے کہ اس سے پہلے انسانی حقوق کی تنظیموں کے احتجاج پر ان کی سزا پر عمل درآمد مؤخر کیا جاتا رہا۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ جرم کے وقت شفقت حسین خود نوعمر تھے مگر وفاقی تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں جرم کے وقت ان کی کم عمری ثابت نہیں ہو سکی۔اس سے قبل شفقت حسین کی سزا پر عمل درآمد کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے روک دیا تھا۔تاہم بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پھانسی کے مجرم شفقت حسین کی عمر کے تعین کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کی درخواست مسترد کر دی۔24 سالہ شفقت حسین کا نام ان 17 افراد کی ابتدائی فہرست میں شامل ہے جنھیں وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کے اعلان کے بعد پھانسی دینے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ شفقت حسین کے کیس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کیونکہ ٹرائل کورٹ میں ان کی عمر کے معاملے کو نہیں اٹھایا گیا تھا اس لیے اب عدالتِ عظمٰی کسی نئے ثبوت پر غور نہیں کر سکتی



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…