جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

کیا واقعی ملک کے چند بڑے کاروباری گروپوں کو 300 ارب روپے معاف کیے گئے؟یہ رقم کس نے معاف کی‘ کیوں معاف کی اور کس کے حکم پر معاف ہوئی؟یہ پیسہ کس کا تھا‘ کیا یہ کسی کے باپ کا تھا؟جاوید چودھری کا تجزیہ‎

datetime 3  ستمبر‬‮  2019 |

تاریخ بتاتی ہے آپ جب کسی ولی کو بھی بادشاہ بنا دیتے ہیں تو وہ اگلے ہی دن بادشاہوں کی طرح ”بی ہیو“ کرنا شروع کر دیتا ہے چناں چہ عقل مندی یہ ہے آپ اقتدار کی کرسی کو صرف اقتدار کی کرسی سمجھیں‘ یہ نہ دیکھیں اس کرسی پر کون بیٹھا ہے اور اس کا نام کیا ہے اور وہ ماضی میں کیا کہتا تھا‘ اس حقیقت کی تازہ ترین مثال عمران خان ہیں‘

آپ کو یاد ہے عمران خان کہا کرتے تھے کہ کیا یہ پیسہ کسی کے باپ کا ہے لیکن آج اقتدار کے ایک سال بعد حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے گیس انفرا سٹرکچر ڈویلپمنٹ سرچارج کی مد میں اپنی من پسند کمپنیوں کو 208 ارب روپے معاف کر دیے‘ اس رقم میں اگر سود کے 13 فیصد بھی شامل کر لیے جائیں تو یہ رقم 300 ارب روپے بن جاتی ہے‘ یہ رقم کس نے معاف کی‘ کیوں معاف کی اور کس کے حکم پر معاف ہوئی‘ حکومت کا کوئی فرد وضاحت کرنے کے لیے تیار نہیں‘ آج کابینہ کے اجلاس کے بعد توانائی کے وفاقی وزیر عمر ایوب نے پریس کانفرنس میں وضاحت کی، یہ وضاحت اپنی جگہ لیکن کیا واقعی ملک کے ان چند بڑے کاروباری گروپوں کو 300 ارب روپے معاف کیے گئے یا نہیں جن کے ماضی کے ملازمین آج حکومت کا حصہ ہیں یا جو ماضی میں پارٹی کو فنڈ دیتے رہے تھے‘ یہ معاملہ ابھی تک کلیئر نہیں ہوا‘ یہ خبریں بھی چل رہی ہیں وزیراعظم کو معلوم ہی نہیں تھا اور ان سے بالا بالا یہ فیصلہ کر لیا گیا تاہم یہ فرض کر لیتے ہیں رقم واقعی معاف کر دی گئی ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے یہ پیسہ کس کا تھا‘ کیا یہ کسی کے باپ کا تھا اور کیا حکومت یہ رقم پین کے ایک سٹروک کے ساتھ معاف کر سکتی ہے، کل پورا شریف خاندان احتساب عدالت میں پیش ہو گا‘ کل میاں شہباز شریف‘ مریم نواز‘ حمزہ شہباز اور یوسف عباس عدالت میں حاضر کیے جائیں گے‘ ن لیگ کل کے دن اپنے لیڈروں کے لیے کیا کرے گی؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…