بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

200ارب سے زائد کے قرضے معاف کرنے کے خلاف بڑا اعلان کردیاگیا،جن لوگوں کے قرضے معاف کئے گئے وہ کون لوگ ہیں؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 2  ستمبر‬‮  2019 |

سکھر(این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی جانب سے لوگوں کے دو سو ارب سے زائد کے قرضے معاف کرنے کے خلاف جلد تحریک پارلیمنٹ میں لائیں گے یہ دنیا کی سب سے بڑی ڈکیتی ہے اور اس میں جن لوگوں کے قرضے معاف کیے گئے ہیں ان میں سے کئی پی ٹی آئی حکومت کا حصہ ہیں اور ہماری چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ وہ اس کا نوٹس لیں ہم نہیں چاہتے کہ کرپشن کرنے والے کو سزا نہ ملے بلکہ ہم تو چاہتے ہیں کہ

کرپشن کرنے والوں کا مقدمہ کھلے عام چلایا جائے اور اسے کھلے عام سزا دی جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھر میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ یہ حکومت ہم سب کو لے ڈوبے گی اس کے پاس کشمیر، پاکستان یا غریب کے لیے کوئی پالیسی نہیں ہے اس کے پاس پالیسی ہے تو صرف امیروں کو خوشحال بنانے کے لیے ہے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے بارے میں اکیس سال قبل حکیم محمد سعید اور مجید نظامی نے جو کہا تھا اب اس پر ہمیں سوچنا ہوگا اور ان کی باتوں پر جب غور کریں تو لگتا ہے مولانا فضل الرحمن عمران خان کے لیے غلط نہیں کہتے اور اب تو بچہ بچہ جان گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی باتیں ٹھیک ہیں ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو بیورو کریسی چلا رہی ہے پارلیمنٹ نہیں چلا رہی ہے ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ اس ملک وحکومت کو چلائے اسے ٹوپی سے کبوتر بنانے والی پارلیمنٹ نہیں بنایا جائے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا یہ کہنا سب سے بڑا بلینڈر ہے کہ آزاد کشمیر میں بھارت نے مہم جوئی کی تو پاک فوج اینٹ کا جواب پتھر سے دے گی جس شخص کو ایل او سی اور مقبوضہ و آزاد میں فرق معلوم نہیں وہ بھارت سے کہہ رہا ہے کہ مقبؤضہ میں جو کرنا ہے کرو یہاں مت آنا حالانکہ اسے یہ پتہ نہیں ہے کہ ہمارا کلیم ہی مقبوضہ کشمیر پر ہے اور ہماری ساری ہمدردیاں کشمیر سے ہیں

انکا کہنا تھا کہ کشمیر اس وقت کا سب سے بڑا برننگ ایشو ہے اور ہمارے سیاست دان صرف ٹیلیفون پر لگے ہیں اور ہمارے کلمہ گو بھائی مودی کو ایوارڈ پہنا رہے ہیں یہ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہے یا ناکامی عوام اس کا فیصلہ کریں کشمیر کے حوالے سے تو ہمیں بھٹو اور بینظیر کے طرز پر کام کرنا چاہیے بھٹو نے ایک ہی دن میں کشمیر کے معاملے پر سولہ ملکوں کا دورہ کیا اور بینظیر نے او آئی سی کو متحرک کرکے دکھایا یہ حکومت تو کشمیر پر

صرف فارملٹیز پورا کررہی ہے نعروں اور احتجاجوں کے ذریعے مسئلہ حل نہیں ہوگا ہمیں اس پر ایک آواز بن کردکھانا ہوگا کشمیر میں کشمیری قید ہیں تو اس حکومت نے سیاست دانوں کو قید کررکھا ہے ہماری اپوزیشن کے ساتھ جنگ چلتی رہے گی مگر یہ مسئلہ ایسا ہے کہ ہم اس پر ایک ہوسکتے تھے اور ہمیں ایک نظر آنا چاہیے تھا یہ لوگ کہتے پھرتے ہیں کہ ہم سب ایک ہیں مگر یہ منافقت ہے ان کا کہنا تھا کہ چلو ہم نے تو غلطیاں کیں مگر آپ تو عوام سے اتنے بڑے وعدے کرکے آئے ہیں ان کو تو پورا کریں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کم سے کم سو فیصد اضافہ ہونا چاہیے تاکہ وہ اس مہنگائی میں کچھ تو سانس لے سکیں۔



کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…