جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

بھارتی اداروں کی نا اہلی، آسام کی رہائشی ضمیرن،سپیلنگ کی غلطی سے غیرملکی بن گئی

datetime 2  ستمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی (اے این این) انڈیا کی ریاست آسام کی ضمیرن پروین کو شہریت کی حتمی فہرست یعنی این آر سی لسٹ کا بڑی بے صبری سے انتظار تھا۔ہفتے کو جب صبح 10 بجے این آر سی کی فہرست جاری کی گئی تو وہ بہت پر امید تھیں کہ ان کا نام اس فہرست میں ہوگا کیونکہ انھوں نے شہریت کے ثبوت میں سارے کاغذات جمع کیے تھے۔

لیکن حتمی فہرست میں ان کا نام نہیں تھا۔ضمیرن کی شہریت صرف اس لیے مشکوک ہوچکی ہے کیونکہ ان کے دو سرٹیفیکیٹس میں ان کے والد کے نام کی سپیلنگ الگ الگ ہیں۔ان کا تعلق ریاست آسام کے ضلع بارپیٹا سے ہے۔ وہ شادی شدہ اور ایک بچے کی ماں ہیں۔ ان کے شوہر اعظم علی میردھا الیکٹریشن ہیں اور گوہاٹی میں رہتے ہیں۔اعظم کے لیے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان کے گھر کے سبھی لوگوں کا نام فہرست میں شامل ہے، سوائے ان کی بیوی کے۔ضمیرن نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک سال پہلے جب شہریت کی عبوری فہرست آئی تھی تو اس میں ان کا نام نہیں آیا تھا۔ اس وقت انھیں بتایا گیا تھا کہ ان کی پنچایت سرٹیفیکیٹ میں ان کے والد کا نام عتاب علی لکھا ہوا تھا لیکن ہائی سکول کے سرٹیفیکٹ میں عطار علی لکھا ہوا ہے۔سپیلنگ میں اس فرق کے سبب انھیں شہریت کی عبوری فہرست میں نہیں رکھا گیا۔ چنانچہ انھوں نے ولدیت ثابت کرنے کے لیے لیے مقررہ مدت میں اضافی کاغذات جمع کیے لیکن حتمی فہرست میں ان کا نام نہیں آیا۔ضمیرن کہتی ہیں کہ میرے شوہر، ان کے سبھی بھائیوں اور ان کی بیویوں اور ماں باپ، سبھی کے نام فہرست میں شامل ہیں۔ صرف میرا نام اس میں شامل نہیں ہے۔ میرا نام اس میں کیوں نہیں ہے؟ کیا سپیلنگ کی غلطی سے میں غیر ملکی ہو گئی؟

وہ بہت پریشان ہیں اور بات کرتے وقت رونے لگتی ہیں۔ وہ یہ سمبھنے سے قاصر ہیں کہ صرف نام میں معمولی سی غلطی سے انہیں شہریت سے محروم کیسے کیا جا سکتا ہے۔ضمیرن کہتی ہیں کہ انھوں نے ولدیت ثابت کرنے کے لیے لیے مقررہ مدت میں اضافی کاغذات جمع کیے لیکن حتمی فہرست میں ان کا نام نہیں آیا۔آسام میں غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کی شناخت کے لیے ریاست کے سبھی شہریوں کی جو فہرست ہفتے کو جاری کی گئی ہے اس میں تقریبآ 19 لاکھ لوگوں کو شہریت سے خارج کر دیا گیا ہے۔ان سبھی کو اب ریاست کے قائم کردہ نیم عدالتی فارینرز ٹریبیونل میں چار مہینے کے اندر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن(بنگلہ دیشی)نہیں ہیں۔ضمیرن کو ان لاکھوں لوگوں کے ساتھ اب اپنی کھوئی شہریت اور قومیت کے لیے ایک بار پھر ایک پیچیدہ قانونی عمل سے گزرنا ہوگا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…