منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

مودی سرکار کی بنگلادیشی مہاجرین کی آڑ میں 20لاکھ مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کی تیاریاں ،کاﺅنٹ ڈاﺅن شروع،دھماکہ خیز اقدامات‎

datetime 30  اگست‬‮  2019 |

نئی دہلی (این این آئی) مودی سرکار نے بنگلادیشی مہاجرین کی آڑ میں مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ آسام میں بھارتی شہریت سے متعلق دی حتمی نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) لسٹ ہفتہ 31 اگست کو جاری کی جائے گی جس میں 40 لاکھ افراد کی قسمت کا فیصلہ ہوگا، این آر سی لسٹ میں 20 لاکھ مسلمانوں کا نام شامل نہ ہونے کا خدشہ ہے۔

حتمی فہرست میں نام شامل نہ ہونے پر حکومت کے فیصلے کے خلاف 120 دنوں کے اندر اپیل کی جاسکتی ہے تاہم شہریت ثابت نہ کرنے والوں کو حراستی کیمپ یا ملک بدری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ریاستی حکومت نے احتجاج کے پیش نظر ریاست بھر میں سیکیورٹی سخت کرکے دفعہ 144 نافذ کردی ہے جبکہ مرکزی حکومت نے ریاست میں سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کی 51 کمپنیاں روانہ کی ہیں۔ہندو انتہاپسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ریاست آسام میں حکومت قائم ہے اور بی جے پی شروع سے ہی این آر سی کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف اقدام اٹھانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ بھارتی مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت نے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کیلئے این آر سی سے متعلق سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور درخواست میں کہا گیا تھا کہ بنگلا دیش کے سرحدی اضلاع میں 20 فیصد اور عام اضلاع میں 10 فیصد ناموں کے دوبارہ تصدیق کی اجازت دی جائے تاہم بھارتی سپریم کورٹ نے رواں سال جولائی میں ان درخواستوں کو خارج کردیا تھا۔ موجودہ وزیرداخلہ امیت شاہ نے بھی گزشتہ برس جولائی میں جاری ہونے والی پہلی این آر سی لسٹ میں 40 لاکھ مسلمانوں کی بطور غیر بھارتی شہری نشاندہی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’گھس پیٹھیا‘ قرار دیا تھا اور اس کے خلاف کانگریس کے احتجاج پر شدید تنقید کی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں اس فہرست میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں اور اب حتمی فہرست 31 اگست کو جاری کی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ 1985 میں آسام میں آل آسام اسٹوڈنٹس یونین کی قیادت میں ایک تحریک ‘آسام تحریک’ چلائی گئی تھی جس کا اختتام ایک معاہدے پر ہوا تھا۔معاہدے کے تحت 25 مارچ 1971 کے بعد ریاست میں آئے لوگوں کو غیر ملکی مانا جائیگا اور واپس ان کے ملک بھیج دیا جائے گا اور اسی بنیاد پر این آر سی تیار کی گئی تھی۔آسام میں غیر بھارتی شہریوں کی نشاندہی کیلئے پہلی بار 1951 میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کی فہرست جاری کی گئی تھی۔

اب جو حتمی فہرست جاری کی جائے گی اس میں ان لوگوں اور ان کے بال بچوں کے نام شامل ہوں گے جن کے نام 1951 کی فہرست میں شامل تھے۔اس کے علاوہ 24 مارچ 1971 کی انتخابی فہرست میں جن لوگوں کے نام موجود ہیں ان کے نام بھی اس حتمی فہرست میں شامل ہوں گے۔اس کے علاوہ وہ لوگ جو حکومت کا تصدیق شدہ شہریت کے حوالے سے کوئی دستاویز رکھتے ہیں انہیں بھی فہرست میں جگہ ملے گی۔حکومت کے مطابق اس فہرست کو شائع کرنے کا مقصد بنگلادیش سے آنے والے غیر قانونی مہاجرین کا پتہ لگانا اور انہیں ملک بدر کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…