بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

مکہ معظمہ کواسمارٹ سٹی بنانے کے منصوبے کا آغاز،ٹھیکہ کونسے ملک کی کمپنی کو دیا گیا؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

datetime 28  اگست‬‮  2019 |

مکہ مکرمہ(این این آئی)سعودی عرب کی حکومت نے مکہ معظمہ کواسمارٹ سٹی بنانے کے منصوبے پر باقاعدہ کام کا آغاز کرتے ہوئے کہاہے کہ اس منصوبے کوآگے بڑھانے کے لیے مکہ معظمہ اور مشاعر مقدسہ کی رائل اتھارٹی کی طرف سے بھی تعاون فراہم کیا جائے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق مکہ معظمہ کے گورنر اور خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے مشیر شہزادہ خالد الفیصل نے کہاکہ

اس منصوبے کا مقصد حجاج کرام اور معمترین حضرات کو بیت اللہ کی زیارت کے لیے نقل وحمل کے جدید وسائل مہیا کرنا اور ان کی خدمت کے لیے کام کرنے والے اداروں کی رفتار کو مزید تیز کرنا ہے۔اس منصوبے کوآگے بڑھانے کے لیے مکہ معظمہ اور مشاعر مقدسہ کی رائل اتھارٹی کی طرف سے بھی تعاون فراہم کیا جائے گا۔ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا کہنا تھا کہ مکہ کو اسمارٹ سٹی بنانے کے منصوبے کا مقصد مسجد حرام اور بیت اللہ کی زیارت کے لیے آنے والوں کوٹرانسپورٹ کی آرام دہ سہولیات کو یقینی بنانا ہے۔ مکہ معظمہ کو اسمارٹ سٹی بنانے کے منصوبے کی ذمہ داری ایک جاپانی کمپنی کوسونپی گئی ہے۔ اس منصوبے کے تحت 2020ء میں مکہ معظمہ میں 400 اسمارٹ بسیں چلائی جائیں گی جب کہ آئندہ پانچ سال کے دوران ان کی تعداد دو ہزار تک پہنچائی جائے گی۔مکہ معظمہ میں جنرل ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی بسوں کے لیے 12 مختلف روٹ تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس کے پہلے مرحلے میں ان روٹس پر400 بسیں چلائی جائیں گی۔ ان میں درمیانے سائز کی 240 بسیں جن کی لمبائی 12 میٹر ہوگی جب کہ 160 بسوں کی 18 میٹر رکھی گئی ہے۔ یہ تمام جاپانی ساختہ ہوں گی۔ان بسوں کو جدید مواصلاتی نظام کے تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر تیار کیا جا رہا ہے۔ ان بسوں کو دور سے ریمورٹ کنٹرول سسٹم کے ذریعے کنٹرول کرنے کے ساتھ ان میں جی پی ایس نظام نصب کیا جائے گا جس کی مدد سے بسوں کے مقامات کی نشاندہی کی جاسکے گی۔بسوں میں سوار ہونے والوں کی رہ نمائی کے لیے عربی اور انگریزی زبانوں میں اسکرین پر ہدایات چلائی جائیں گی۔ نیز مسافروں کی سہولت کے لیے ان بسوں میں انٹرنیٹ تک رسائی اور وائی فائی کی سہولت مہیا کی جائے گی۔ مکہ معظمہ میں اسمارٹ بسوں کے لیے 450 اسٹیشن قائم کیے جائیں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…