بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

’’ جمہوریت میں ہم کسی بھی شہری کے حقوق غصب نہیں کرسکتے‘‘ مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر بھارتی بیوروکریٹ نے احتجاجاً استعفیٰ دیدیا

datetime 28  اگست‬‮  2019 |

نئی دلی(آن لائن) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے مظالم پر نوجوان بیورو کریٹ کنن گوپی ناتھ نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق سابق بھارتی بیورو کریٹ کنن گوپی ناتھ نے بھارتی حکومت کے کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جو کر رہا ہے اس کامقصد انسانی جانوں کاتحفظ نہیں۔

کشمیریوں سے حق رائے آزادی چھینا جا رہا ہے۔سابق بھارتی بیورو کریٹ نے کہا کہ جمہوریت میں ہم کسی بھی شہری کے حقوق غصب نہیں کرسکتے۔ کنن گوپی ناتھ نے خبر رساں ادارے کو انٹرویو کے دوران اپنے استعفیٰ دینے سے متعلق بتاتے ہوئے کہا تھا کہ جموں کشمیر میں بنیادی حقوق کی دھجیاں اڑتے دیکھ کر انہوں نے اپنے استعفے کے کاغذات جمع کرائے۔انہوں نے مزید کہا جب دنیا کی ایک بڑی جمہوریت پوری ریاست پر پابندیوں کا اعلان کرتی ہے اور لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہے تو کم از کم وہ یہ جواب دے سکتے ہیں کہ انہوں نے ملازمت ہی چھوڑ دی۔کنن کا کہنا ہے کہ وہ سول سروس میں اس امید پر شامل ہوئے تھے کہ وہ ان لوگوں کی آواز بنیں گے جو خاموش ہیں لیکن یہاں وہ اپنی آواز بھی کھو بیٹھے۔کنن گوپی ناتھ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا میں نے ایک بار سوچاتھا کہ سول خدمات میں شامل ہونے کا مطلب شہریوں کے حقوق اور آزادی کو بڑھانے کا ایک موقع ہے۔کنن گوپی ناتھ دوسرے آئی اے ایس آفیسر ہیں جنہوں نے کشمیر میں ہونے والی خلاف ورزیوں کے باعث استعفیٰ دیا ان سے قبل آئی اے ایس آفیسر شاہ فیصل بھی استعفیٰ دے چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…