منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی سیاستدانوں کی موت کے پیچھے کالا جادو ایسا کون کررہا ہے ،نمٹنے کیلئے کیا کرنا ہوگا؟مودی سرکار کومشورہ دیدیا گیا

datetime 27  اگست‬‮  2019 |

نئی دہلی (آن لائن)بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ایوان زیریں (لوک سبھا) کی رکن پراگیہ ٹھاکر سنگھ نے یکے بعد دیگرے پارٹی رہنماؤں کی موت کی وجہ کالے جادو کو قرار دے دیا۔گزشتہ چند دنوں میں بی جے پی سے تعلق رکھنے والے سابق یونین وزراء￿ سشما سوراج اور ارون جیٹلی کا انتقال ہوگیا تھا۔

دونوں رہنماؤں کا شمار حکمران جماعت کے سرکردہ افراد میں ہوتا تھا۔ان دونوں کی طبعی موت پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھوپال سے رکنِ لوک سبھا پراگیہ ٹھاکر سنگھ نے انوکھا بیان دیا ہے اور ان کی موت کا الزام بھی اپوزیشن پر لگادیا ہے۔پھوپال میں ارون جیٹلی کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب میں پراگیہ نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات لڑنے کے دوران ایک مہاراج یعنی سادھو سے ملاقات ہوئی تھی جنہوں نے کہا تھا کہ سادھنا اور پوچا پاٹ کم مت کرنا کیوں کہ اپوزیشن والے بی جے پی پر کالا جادو کررہے ہیں۔پراگیہ نے بتایا کہ سادھو نے مزید کہا کہ جادو اور نادیدہ قوتوں سے بی جے پی اور ان کے قائدین پر اثر ہوگا اور نقصان پہنچے گا، آپ بھی ان کا ٹارگٹ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے سادھو کی بات سنی اور پھر بھول گئی لیکن اب دیکھتی ہوں کہ سشما سوراج، بابو لال گور اور ارون جیٹلی آگے پیچھے دنیا سے چلے گئے اور اب ان کی موت پر میرے دل میں خیال آیا کہ کہیں سادھو نے سچ تو نہیں کہا تھا؟ یاد رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی کابینہ میں سشما سوراج وزیرخارجہ اور ارون جیٹلی وزیرخزانہ رہے ہیں جبکہ بابو لال گور ریاست مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ رہے ہیں جن کا انتقال 21 اگست کو ہوا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…