منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

آسام اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے حراستی مراکز کے منصوبوں کا انکشاف

datetime 26  اگست‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی) ریاست آسام اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر حراستی مراکز قائم کرنے کے منصوبوں نے امریکی ہاؤس آف ریپرزینٹیٹو (کانگریس) کی واحد بھارتی قانون ساز پرامیلا جیاپال کو سخت تشویش میں مبتلا کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے 2 ہزار کشمیریوں کو

حراست میں لیے جانے کی خبروں سے سخت پریشان ہوں جبکہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ حکومت کا مسلمانوں کے لیے بڑے پیمانے پر حراستی مراکز بنانے کا منصوبہ ہے۔ اسی قسم کی ایک ٹوئٹ میں ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شف نے بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے لکھا تھا کہ کشمیر میں صورتحال خاصی سنگین ہے جہاں ہزاروں شہری دنیا سے کٹ کر اور بغیر کسی الزام کے قید ہیں۔جیا پال نے اپنے پیغام میں نئی دہلی کو باور کروایا کہ اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے خوف اور حد سے زیادہ حب الوطنی بھارت میں بھی اسی طرح نقصان دہ ہے جیسے امریکا میں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جمہوریت میں شفافیت، ضرور کارروائی اور آزادی اظہار رائے درکار ہوتی ہے، چاہے صورتحال کتنی ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو یہ چیزیں انتہائی اہم ہیں۔اس ضمن میں امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے بھی ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے بھارتی فیصلے پر بات کرنی چاہیے قبل اس کے کہ پاکستان کے ساتھ اس کی کشیدگی میں اضافہ ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…