پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

اہم ملک کے سفارت خانے  کا  کسٹمز حکام کی ملی بھگت سے اربوں   مالیت کا سامان بغیر ڈیوٹی   درآمد  کئے جانے کا انکشاف،  ملکی معیشت کوکروڑو ں کا نقصان 

datetime 25  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن)  پاکستان میں مراکش کے سفارت خانے نے کسٹمز حکام کی ملی بھگت سے اربوں روپے کی مالیت کا سامان بغیر ڈیوٹی ادا کیے در آمد کیا جس سے   ملکی معیشت کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے۔ واضع رہے کہ ویانا کنونشن کے تحت غیر ملکی سفارت کاروں کو محدود مالیت اورمقدار میں اشیاء درآمد کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔

سفارت خانے کی جانب سے اربوں روپے مالیت کی سامان کی در آمد کانوٹس لیتے ہوئے وزارت خارجہ نے محکمہ کسٹم سے مراکش کے سفارت خانے کی جانب سے منگوائے جانے والے ڈیوٹی فری سامان کی تفصیلات طلب کرلی۔ آن لائن کو دستیاب دستاویزات کے مطابق رواں ماہ پاکستان میں مراکش کے سفارت خانے نے وزارت خارجہ کی جانب سے اجازت نامہ حاصل کیے بغیر  26ٹن اشیاء درآمد کی۔ دستاویز کے مطابق مراکش کے سفارت خانے  اربوں روپے کی مالیت پر مشتمل مختلف اشیاء کا ایک کنٹینر متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ جبل علی سے بل نمبر LPL 0891479کے تحت سامان درآمد کیا گیا،جس میں روز مرہ ضرور ت کی اشیاء کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ممنوعہ اشیاء بھی شامل بھی شامل ہیں، جس کی تفصیلات نہ وزارت خارجہ کو فراہم کی گئی اور نہ بل آف لینڈنگ پر درخ کی گئی ہیں۔ ڈیوٹی فری سامان کی کنسائنمنٹ 090-EPC-A-001  SQ FL  الفاء شپنگ لمٹیڈ، وگلین ہاؤس بزنس سنٹر کے نام سے کراچی کی بندرگاہ پر پہنچا۔ جب کہ وزار ت خارجہ سے اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سفارت خانہ مراکش نے وزارت خارجہ کے پروٹوکو ل ونگ سے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کیے بغیر سامان درآمد کیا۔ ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے پر بتایا کہ وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں کراچی کسٹمز سے اس بارے میں تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ مراکش کے سفارت خانے سے رابطہ کیا گیا تو پاکستان میں تعینات مراکو کے سفیر محمد کرمونی نے اپنے عملے کے کارکن جاوید انور کے ذریعے بتایا کہ مراکش کے سفارت خانے نے ایسا کوئی سامان درآمد نہیں کیا جو سفارتی استثناء یا پاکستانی قانون کے خلاف ہو۔

جبکہ سفیر محمد کرمونی سے اس سلسلے میں خود سے تحقیقات شروع کردی ہیں۔واضع رہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سفارتکار پاکستان کسٹمز کے ساتھ سازباز کرکے مشکوک اشیاء درآمد کرتے ہیں اور پھر بھاری قیمت وصول کرکے پاکستان کے مارکیٹوں میں یہ سامان پھیلا دیا جاتا ہے، جس سے پاکستان کی معیشت کے علاوہ پاکستان کی انڈسٹری کو بھی بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کرپشن پر مبنی یہ دھندہ کئی دہائیوں سے چلا آرہا ہے، کیونکہ اس ناجائز کاروبار میں غیر ملکی سفارت کا ر اورشامل ہیں جو پاکستا ن کے قوانین کو عزت نہ دیکر اور دھجیاں بکھیر کر مال بنانے میں مصروف ہیں، اور حرام کے اس مال سے کسٹمز کے کرپٹ افسران اپنا حصہ وصول کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…