منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی نے خود کشی کیوں کی؟مودی حکومت کا کون سا اقدام وہ برداشت نہ کر سکا؟حیرت انگیز وجہ سامنے آگئی‎

datetime 24  اگست‬‮  2019 |

سرینگر(آن لائن) مقبوضہ کشمیر کے علاقے اننت ناگ میں بھارتی فوج کے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے سے دلبرداشتہ ہو کر ہندوستانی فوج کے سی آر پی ایف کے اسسٹنٹ کمانڈنٹ ایم آو وند نے خود کو سرکاری رائفل سے گولی مار کر خودکشی کر لی۔بھارتی میڈیا کے مطابق 2014ء میں سی آر پی ایف میں شمولیت حاصل کرنے والا بھارتی فوجی ایم آر وند 5سال سے مقبوضہ کشمیر میں تعنیات تھا

اور وہ کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹتے دیکھ رہا تھا،33سالہ سی آر پی ایف کے اسسٹنٹ کمانڈنٹ ایم آر وند نے ہفتہ کے روز آخر کار کشمیریوں کے ظلم و جبر کی طویل داستان سے تنگ ہو کر خود کو سرکاری رائفل سے گولی مار کر ہلاک کر لیا،بھارتی فوج کی جانب سے واقع کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔واضح رہے جنوری 2007 سے اب تک 440 بھارتی فوجی کشمیر میں خودکشی کر چکے ہیں۔دوسری جانب مقبو ضہ کشمیر میں مسلسل محاصرے، کرفیو اور پابندیوں کی وجہ سے ڈاک کا نظام بھی بری طرح سے متاثر ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سرینگر، جموں اور لداخ کے ڈاکخانے ہزاروں خطوط اور دیگر ترسیلی اشیاء سے بھرے پڑے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں تقریباً 77ڈاکخانے ہیں جن میں سے محض چند ایک کام کر رہے ہیں۔ قابض انتظامیہ نے ڈاکخانے سمیت تمام محکموں کے ملازمین کو تیرہ اگست کو نوکریوں پر خاصر ہونے کے احکامات دیئے تھے لیکن کرفیو، پابندیوں کی وجہ سے مقبوضہ علاقے کے تمام سرکاری و نجی دفاتر مسلسل ویرانی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ، ٹیلی فون اور مواصلات کے دیگر ذرائع بھی پانچ اگست سے معطل ہیں جس کی وجہ سے کشمیریوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ بالکل معطل ہے۔ بھارتی شہروں میں مقیم اور بیرونی دنیا رہنے والے کشمیری وادی میں محاصرے میں پھنسے اپنے پیاروں کی خیریت معلوم کرنے کیلئے خطوط بھیج رہے ہیں لیکن ڈاک کے نظام کی بندش کی باعث وہ ان تک نہیں پہنچ رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…