منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

سرکاری اداروں کے نقصانات 44 سے بڑھ کر 191 ارب روپے ہوگئے

datetime 20  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کے سرکاری ملکیت میں اداروں کے نقصانات 17-2016ء میں بڑھ کر 191 ارب 50 کروڑ روپے ہوگئے جبکہ یہی نقصانات 16-2015 میں محض 44 ارب 70 کروڑ روپے کے تھے۔ نجی ٹی وی کے مطابق 15-2014ء تک ریاست کی ملکیت میں یہ ادارے 52 ارب روپے منافع میں چل رہے تھے۔ اس طرح ایک سال میں خسارہ 330 فیصد رہا۔ وزارت خزانہ کی تیار اور جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بھاری خسارے میں جانے والے دس بڑے اداروں میں

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) 133 ارب 48 کروڑ 80 لاکھ روپے کے ساتھ خسارے میں سرفہرست ہے۔پاکستان ریلوے کے نقصانات 40 ارب 70 کروڑ، پی آئی اے کے 39 ارب 50 کروڑ، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے 37 ارب 30 کروڑ، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے 27 ارب 30 کروڑ، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے 19 ارب 37 کروڑ، سندھ انجینئرنگ کے 19 ارب 30 کروڑ، کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے 18 ارب 70 کروڑ، ملتان الیکٹرک پاور کمپنی کے 17 ارب 93 کروڑ 50 لاکھ، پاکستان اسٹیل کے نقصانات 14 ارب 85 کروڑ 20 لاکھ رہے۔ سرفہرست منافع بخش اداروں میں او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، پی ایس او اور دیگر شامل ہیں۔351 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ میں 17-2016ء تک ریاست کی ملکیت اداروں کی تعداد 197 سے بڑھ کر 204 ہوگئی۔ توانائی کے شعبے میں اداروں کی تعداد 41 ہے جبکہ شعبہ جاتی درجہ بندی میں ادارے 46 ہیں۔ انسانی وسائل کے اعتبار سے 16-2015ء میں ملازمین کی تعداد 424014 سے گھٹ کر 2016-17ء میں 422962 رہ گئی۔ 73 فیصد ملازمین اسٹاف کیڈر اور 15 فیصد افسران کے شمار میں آتے ہیں۔ ریاست کے انتظام میں اداروں کے مجموعی اثاثوں کی مالیت 14.5 ٹریلین سے بڑھ کر 17.1 ٹریلین روپے ہوگئی۔ اضافیکا تناسب 20 فیصد رہا۔ پالیسی ساز سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت سے آگاہ ہیں۔ سب سے بڑا خسارہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں پی آئی اے، ریلویز اور این ایچ اے کو ہوا۔ تاہم رپورٹ کے مطابق حکومت نے اصلاحات کے عمل کی رفتار پہلے ہی تیز کردی ہے جن میں پی آئی اے اور ریلویز سرفہرست ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…