بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ایل او سی پر جارحیت، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنرپھر دفتر خارجہ طلب،پاکستان نے بڑا مطالبہ کردیا

datetime 19  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد(اے این این )پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی)پر بلااشتعال فائرنگ پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گورو اہلووالیا کو دفتر خارجہ طلب کیا ۔

بھارت کی جانب سے گزشتہ روز لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کی۔بھارتی فوج کی گزشتہ روز ایل او سی کے تتہ پانی اور چری کوٹ سیکٹرز پر بلااشتعال فائرنگ سے ناگری گاؤں کے 75 سالہ لعل محمد اور 61 سالہ حسن دین نامی شہری شہید جبکہ 7 سالہ بچہ صدام شدید زخمی ہوا تھا۔ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ بھارتی قابض افواج مسلسل ایل او سی اور ورکنگ بانڈری پر جنگ بندی معاہدے 2003 کی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں اور شہری آبادی کو آرٹلری فائر، مارٹر گولوں اور خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی میں غیر معمولی اضافے کا سلسلہ 2017 سے جاری ہے اور اس سال ایک ہزار 970 بار خلاف ورزیاں کی گئیں۔ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ بھارت کی مسلسل خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و استحکام کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں اور یہ خلاف ورزیاں کسی بھی تزویراتی غلطی کا باعث بن سکتی ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کو اپنی مسلح افواج کو جنگ بندی کا احترام کرنے کا کہا اور ورکنگ بانڈری اور ایل او سی پر امن کو بحال رکھنے کا پابند بنانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت، اقوام متحدہ کے مبصر مشن کو سلامتی کونسل کی قراردادوں میں موجود مینڈیٹ کے مطابق کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔خیال رہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بانڈری پر جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے اور خاص طور پر مقبوضہ جموں اور کشمیر کے حوالے بھارت کے یک طرفہ اقدام کے بعد ایل او سی پر بھارتی خلاف ورزیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔بھارتی فوج ایل او سی پر جدید ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے جبکہ گزشتہ ہفتے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے شہری آبادی کو کلسٹر بموں سے بھی نشانہ بنایا تھا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…