منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

معیشت کی ترقی کیلئے ’’ تھنک ٹینک ‘‘ کا قیام ،قومی آمدنی میں اضافے کیلئے نئے شعبے تلاش کئے جائیں : چیئر پرسن پاکستان کارپٹ

datetime 18  اگست‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی) پاکستان کی معیشت کی ترقی کیلئے قومی سطح پر ’’ تھنک ٹینک ‘‘ کا قیام عمل میں لایا جائے ،ایسی قومی پالیسی تیار کی جائے جس پر حکومتوں کی تبدیلی کے اثرات مرتب نہ ہوں،برآمدات کے فروغ کیلئے اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی مصنوعات کی موثر مارکیٹنگ اور تشہیر کیلئے مختلف ممالک میں منعقدہ نمائشوں میں زیادہ سے زیادہ وفود کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن اور لاہور چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر پرویز حنیف نے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اب ایک دوسرے کو معاشی میدان میں پچھاڑرہی ہے اس لئے ہمیں بھی اپنے معاشی ڈھانچے کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا ۔مجموعی قومی آمدنی میں اضافے کیلئے روایتی شعبوں کے ساتھ ساتھ نئے ذرائع تلاش کرنا ہوں گے اور اس کے لئے قومی سطح پر ’’ تھنک ٹینک ‘‘ کا قیام عمل میں لایا جائے ۔معیشت کے حوالے سے قومی پالیسی تیار کرکے اس کی دستاویز کو قانونی حیثیت دی جائے تاکہ حکومتوں کی تبدیلیوں کے اثرات اس پر اثر انداز نہ ہوں ۔ مختلف ممالک خصوصاًخلیجی ریاستوں کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہنر مند فورس تیار کر کے بھجوائی جائے ۔ مقامی انڈسٹری خصوصاً برآمدی شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے اور انہیں مراعات اور سہولیات دی جائیں۔ دنیا کے مختلف ممالک خصوصاًخطے کے حریف ممالک کا مقابلہ کرنے کے لئے برآمدی انڈسٹری کی غیر مشروط سرپرستی کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی مصنوعات معیار کے اعتبار سے اپنی پہچان رکھتی ہے لیکن موثر مارکیٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ مختلف ممالک میں منعقدہ نمائشوں میں مختلف تنظیموں اور ایسوسی ایشنز کے وفود کی شرکت کو یقینی بنایا جائے اور اہداف حاصل کر کے آنے والوں کی ستائش کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دفاع نا قابل تسخیر ہے اب ہمیں معاشی میدان میں بھی اس ہدف کو حاصل کرنا ہے جس کے لئے حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…