منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

بحیثیت قوم ہمارا صبر جواب دے رہا ہے،ہم بھارت کی سوچ سے بھی آگے جاسکتے ہیں،پاکستان نے خبردارکردیا،دھماکہ خیز اعلان

datetime 15  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر برائے سائینس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کی سوچ سے بھی آگیجا سکتا ہے، بھارتی اسٹیبلشمنٹ آر ایس ایس اور نازی سوچ کی حامل اپنی قیادت کو کچھ سمجھانا چاہئے۔جمعرات کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کو خطرات میں نہ ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت قوم ہمارا صبر جواب دے رہا ہے اور ہم بھارت کی بے وقوفیوں کو مزید برداشت نہیں کریں گے،

دریں اثناء وفاقی وزیر سائینس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ بھارت کشمیر پر اپنا تسلط قائم کرنے کی مزموم سازش تو کر رہا ہے مگر کشمیریوں کے دلوں میں صرف پاکستان ہی بستا ہے۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کوپن ہیگن میں پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے یوم آزادی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کشمیر کے علاقوں پر اپنا تسلط قائم کرنے کی مزموم سازش کر رہا ہے مگر کشمیریوں کے دلوں میں تو پاکستان رہی بستا ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ کشمیریوں کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ انہوں نے تحریک آزادی کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 1937ء میں کانگریس کے متعصبانہ طرزحکومت نے سرسید احمد خان کے دو قومی نظریئے کو سچ ثابت کر دیا تھا۔قائداعظم محمد علی جناح جو ہندومسلم اتحاد کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے، انہوں نے بھی سر سید احمد خان اور علامہ اقبال کے نظریات کی صداقت تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کی تحریک آزادی کی قیادت کا بیڑا اٹھایا اور پاکستان کے قیام کو مسلمانوں کی مذہبی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی ترقی کے لئے ناگزیرسمجھتے ہوئے بھرپور سیاسی اور قانونی جنگ کے سفر کا آغاز کیا۔انہوں نے مسئلہ کشمیر پر دھواں دار اور جذباتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطہ میں امن کے لئے دو دہائیوں سے بر سرپیکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے حلف اٹھاتے ہی بھارت کو امن کا پیغام دیتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت ایک قدم بڑھائے، پاکستان دو قدم بڑھائے گا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے خطہ میں امن کی خاطر افغان طالبان کو امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات پر آمادہ کرکے امن پسندی کا ثبوت دیا۔پاکستان ایک مستحکم افغانستان چاہتا ہے کونکہ پاکستان خطہ میں امن چاہتا ہے۔ دہشتگردی کے خاتمہ کے حوالے سے پاک فوج کی قربانیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ

پاکستان کی امن کی کوششوں کے باوجود ہر روز پاک فوج کے جوان اپنی قیمتی جانوں کا نظرانہ پیش کر رہے ہیں۔ ہمارے جہلم اور چکوال کے اضلاع کا کوئی ایسا قبرستان نہیں جہاں شہدا مدفون نہ ہوں، ہمارا کوئی بھی گاؤں ایسا نہیں ہے جہاں غازی رہایش پذیر نہ ہوں۔فواد حسین چوہدری نے مزید کہا کہ ہم اس لہو کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے جو ہم نے کشمیر کے لئے بہایا ہے۔ اگر بھارت کا کوئی سورما یا کوئی سیاستدان یہ سوچ رہا ہے کہ پاکستان کشمیر پر کوئی سودے بازی کرے گا تو وہ محض احمقوں کی جنت میں رہ رہا ہے۔ انہوں نے پاک بھارت جنگ کے امکانات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کشمیر کے لئے بھارت سے تین جنگیں لڑ چکے ہیں اور ہم چوتھی جنگ لڑنے کے لئے بھی تیار ہیں۔

اگر بھارت کے ساتھ جنگ ہوئی تو پاکستان کا بچہ بچہ پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑاہوگا۔ فواد حسین چوہدری نے کہا کہ پاک بھارت جنگ کا موازنہ افغان جنگ سے نہ کیا جائے کیونکہ اگر پاکستان اور بھارت کی جنگ ہوئی تو اس کی شدت اور حدت کوپن ہیگن سے لیکر لندن تک، لندن سے لے کر واشنگٹن تک اور ریاض سے لے کر تہران تک محسوس کی جائے گی۔ فواد چوہدری نے مودی کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور مودی آگ سے کھیل رہے ہیں اور وہ خود ہی اس آگ میں جل جائیں گے۔کشمیری قیادت کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی جیسے کشمیری رہنماء جو پاکستان کے موقف کے مخالف تھے، ا?ج اپنے نظریہ پر نادم ہیں اور ا?ج پاکستان کے موقف کی تائید کرتے نظر ا?تے ہیں۔ ا?ج کشمیر میں کوئی بھی ہندوستان کا نام لینے کو تیار نہیں ہے۔ تقریب میں ڈنمارک میں تعینات پاکستانی سفیر ذوالفقار بخاری نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں شرکت پر ڈنمارک میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اور تحریک انصاف کی قیادت نے وفاقی وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین کا والہانہ استقبال کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…