اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

راولپنڈی, پینے کے ہر 100ملی لٹر پانی میں 24ہزار بیکٹیریا اور فضلے کی آمیزش کا انکشاف

datetime 6  جون‬‮  2015 |

راولپنڈی (نیوزڈیسک) راولپنڈی کے شہریوں کو سپلائی کیے جانے والے پینے کے ہر 100ملی لیٹر پانی میں 24 ہزار بیکٹیریا اور فضلے کی آمیزش کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے شہری بڑی تعداد میں مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ واسا کی جانب سے شہریوں کوپانی کی سپلائی کی صورت میں موت بانٹی جا رہی ہے۔راولپنڈی کے شہریوں کو راول ڈیم جھیل سے پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔ جب اس ڈیم کی تعمیر ہوئی تو اس کا پانی بالکل صاف تھا مگر ان49 برسوں میں اس جھیل کا پانی نہ صرف پینے کے قابل نہیں رہا بلکہ شہریوں کےلئے زہر قاتل بن چکا ہے۔راول ڈیم جھیل سے آنے والے پانی کو صاف کرنے کےلئے ٹرٹیمنٹ فلٹریشن پلانٹ لگایا گیا جس میں ر وزانہ 28 ملین گیلن پانی کو فلٹر کرکے شہریوں تک پہنچایا جاتا ہے مگر لیبارٹری ٹیسٹ تو کوئی اور ہی کہانی سنا رہے ہیں۔ڈیم کے نواح میں پانچ سو تیس پولٹری فارم اور پولٹری شیڈز واقع ہیں جبکہ انیس گندے نالوں سمیت لاکھوں گھروں کا نکاسی کا پانی راول جھیل میں گر کر اسے آلودہ کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ماہرین نے کہا ہے کہ اگر راول جھیل کے پانی کو محفوظ نہ بنایا گیا تو بہت جلداس جھیل میں موجود مچھلیوں اور انسانوں کو ایک ہی جیسا پانی پینا پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…