پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

میں نے جو بات کی اس کا جواب عدالت کو دوں گا،حاصل بزنجو ڈٹ گئے ،دھماکہ خیز اعلان کردیا

datetime 15  اگست‬‮  2019 |

کوئٹہ(آن لائن) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء سینیٹر میر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ پاکستان میں چھوٹے صوبوں کی قوم پرست جماعتیں پنجاب پر بالادستی اور وسائل پر قبضے کا الزام عائد کرتی رہی ہیں میں نہیں سمجھتا کہ اس ملک میں استحصال پنجابی نے کیا ہے اگر کوئی اس بنیاد پر کہتا ہے کہ فوج کی اکثریت پنجابی ہے بیورو کریسی میں ان کی اکثریت ہے تو غربت میں بھی ان کی ہی اکثریت ہے۔

لوگوں کی گمشدگیوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے ان کے دورِ حکومت میں بھی دس بارہ افراد کو رہا کر دیتے تھے اب بھی ایسا ہی کیا جا رہا ہے میں نے جو بات کی ہے اس کا جواب عدالت کو دوں گا اور مجھے تین عدالتوں میں بلایا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کیاسینیٹر۔ میر حاصل بزنجو نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ جب کوئی اپنی پارٹی کو چھوڑتا ہے تو بنیادی طور پر وہ بے ضمیری اور ضمیر فروشی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ آپ نے آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد)دیکھی، آپ نے جنرل حمید گل کو دیکھا، آپ نے اسد درانی کو دیکھا۔ اصغر خان کیس سب کے سامنے ہے۔ فیض آباد دھرنے کے جو ویڈیو کلپ سامنے آئے وہ بھی لوگوں نے دیکھے۔ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت صدیقی کو جس طرح نکالا گیا، جسٹس قاضی فائز عیسی کے جن کمنٹس پر ٹرائل ہو رہا ہے، ان تمام کا ایک ٹریک ریکارڈ ہے میں نے جو بات کی ہے اس کا جواب عدالت کو دوں گا اور مجھے تین عدالتوں میں بلایا گیا ہے۔ میں نے ادارے کی بات نہیں کی سربراہ کی بات کی ہے میں نے جنرل فیض کی بات کی تھی انہوں نے کہا کہ بگٹی ان کے لیے محترم ہیں۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ بگٹی نے اپنی قوم کے ساتھ فراڈ کیا ہے تو یہ اس کی رائے ہو سکتی ہے میرا ایسا کوئی خیال نہیں ہے، نا میں بگٹی بننا چاہتا ہوں اور نا غیر بگٹی۔ میں زندہ رہنا چاہتا ہوں میر حاصل بزنجو کا سینیٹ انتخابات میں ناکامی پر کہنا ہے کہ اپوزیشن اتحاد کے جن منحرف سینیٹروں نے ان کے خلاف ووٹ دیا، انھوں نے ‘ضمیر فروشی کی’ اور ‘ایسا لالچ اور دبا کے نتیجے میں کیا گیاانہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل حزب اختلاف کے پاس اس قسم کی اطلاعات تھیں کہ اتحاد میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ مگر چھ سے آٹھ اراکین پر ان کو شبہ تھا جنھیں وہ جانتے بھی تھے تاہم ان کا کہنا ہے کہ انھیں یہ اندازہ بالکل نہیں تھا کہ 14 سینیٹر ان کے خلاف ہو جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…