جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں11ویں روز بھی لاک ڈاؤن، کشمیری بدستور گھروں میں محصور ،بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ بن گیا

datetime 15  اگست‬‮  2019 |

سرینگر(اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن کا11واں روز ، بھارتی فورسزنے کئی علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ کشمیری بدستور گھروں میں محصور ہیں، بچے بھوک سے بلبلانے لگے، ادویات کی بھی قلت ہے۔بھارت کے جبر کے سامنے کشمیری ڈٹ گئے ہیں، کرفیو لاک ڈائون سمیت ہر طرح کی پابندیوں کے باوجود کشمیریوں کی بھارتی اقدامات کو پوری طرح مسترد کر دیا ہے۔

بھارت نے سیکیورٹی مزید بڑھا دی ہے۔سری نگر سمیت کشتواڑ، پلواما اور پونچھ میں ہزاروں قابض فوجی گشت کر رہے ہیں، مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ مسلسل بند ہے، کشمیری اخبارات اب تک اپڈیٹ نہیں ہو سکے، اخبارات پر صرف تاریخ بدل رہی ہے، خبریں پرانی ہی ہیں، بیرونی دنیا کا وادی سے رابطہ منقطع ہے، حریت رہنما مسلسل نظر بند ہیں۔وادی میں کرفیو کے باوجود لوگوں نے بھارت کا یوم آزاد یوم سیاہ کے طور پر منایا اور محاصرے توڑ کر سیاہ پرچموں کے ساتھ احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔اس دوران فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ کئی کو گرفتار کرنے کی بھی اطلاعات ہیں ۔وادی میں مقامی اخبارات اور جرائد کی اشاعت پر بھی بدستور پابندی عائد ہے ۔میڈیا کی سرگرمیاں مکمل پر ختم ہو گئی ہیں ۔ ادھر بھارتی وزارت داخلہ کے ترجمان نے کرفیو کے نفاذ کے بعد پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ جمعے کی نماز کے بعد مقبوضہ وادی میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان تصادم ہوا تھا۔مقامی افراد نے اس احتجاج کے حوالے سے کہا تھا کہ 8 ہزار سے زائد افراد نے مظاہرہ کیا تھا جن کو منتشر کرنے کے لیے بھارتی سیکیورٹی فورسز نے آنسو گیس اور پیلٹ گنز فائر کیے تھے۔

مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کے حوالے سے بھارتی وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مقامی مسجد میں نماز کی ادائیگی کے بعد واپسی پر شرپسند شہریوں میں مل گئے اور انہوں نے بلااشتعال قانون نافذ کرنے والی فورسز پر پتھراو کیا جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر کشیدگی پھیل گئی۔ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مزاحمت کی اور امن و عامہ کو بحال رکھنے کی کوشش کی اور آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے بعد جموں کشمیر میں کوئی فائر نہیں کی گئی۔خیال رہے کہ بھارتی حکومت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کا اعلان کیا تھا اور مقبوضہ وادی میں ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کو معطل کرکے کرفیو نافذ کردیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…