پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

ٹیکس کیوں نہیں دیتے؟ایف بی آر نے بڑے ڈاکٹرز اور سرجنز کے گرد بھی گھیرا تنگ کر دیا،بڑے اسپتالوں کو نوٹس،شناختی کارڈ نمبر اور نام بھی طلب،دھماکہ خیز اقدامات

datetime 10  اگست‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)نے کراچی کے ڈاکٹرز اور سرجنز کے گرد بھی گھیرا تنگ کر دیا ہے، ڈاکٹرز اور سرجنز کا بڑے پیمانے پر ٹیکس ادا نہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے ایک دستاویز جاری کی گئی ہے

جس میں کہا گیا ہے کہ پی ایم ڈی سی میں رجسٹریشن کے باوجود ڈاکٹرز ٹیکس ادا نہیں کر رہے ہیں۔اس سلسلے میں ایف بی آر کی جانب سے شہر کے معروف اسپتالوں کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹروں کی آمدن پر مبنی تفصیلات فوری فراہم کی جائیں۔دستاویز کے مطابق ایف بی آر کی طرف سے مذکورہ نوٹسز کراچی کے 30 بڑے اسپتالوں کو جاری کیے گئے ہیں۔ ایف بی آر نے ڈاکٹروں کے شناختی کارڈ نمبر اور نام بھی طلب کیے ہیں۔خیال رہے کہ ایف بی آر نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے بھی ان صارفین کا ڈیٹا حاصل کر لیا ہے جن کے نام سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریکارڈ میں موجود نہیں۔اس حوالے سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 2 لاکھ 67 ہزار 426 غیر رجسٹرڈ صنعتی صارفین ہیں جو نہ تو ٹیکس رول میں موجود ہیں نہ ہی انھوں نے نیشنل ٹیکس نمبر حاصل کیا اور نہ ہی سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر حاصل کیا ہے۔معلوم ہوا کہ سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریکارڈ میں بجلی کے 32 لاکھ 60 ہزار صارفین کے نام موجود ہی نہیں، کمرشل سطح پر توانائی حاصل کرنے والے 25 لاکھ 20 ہزار صارفین غیر رجسٹرڈ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…