پیر‬‮ ، 20 اپریل‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر،کشمیری عوام کرفیو توڑ کر مساجد پہنچ گئے، نماز جمعہ کے بعد ہنگامے، عوام نے بھارتی فوجیوں کی دوڑیں لگوا دیں، درجنوں گرفتار

datetime 9  اگست‬‮  2019 |

سرینگر(آن لائن) مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد وادی میں پانچویں روز بھی لاک ڈاؤن جاری ہے، نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے شہری کرفیو کو روند کر مسجد پہنچے۔ کارگل میں ہنگامے پھوٹ پڑے،شہریوں نے بھارت کی طرف سے خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد احتجا ج کیا گیا، شہریوں نے مطالبہ کیا کہ وادی کی خصوصی حیثیت بحال کی جائے۔ اسی دوران عوام نے بھارتی فوجیوں کی دوڑیں لگوا دیں،

جس کے بعد درجنوں شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا۔غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ وادی میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد پانچویں روز بھی احتجاج جاری ہے۔ مقبوضہ وادی کا سخت ترین کرفیو کے باعث شہریوں کے پاس کھانے پینے کی اشیاء   ختم ہو گئی ہیں۔ بھارتی فوج کے ہزاروں اہلکار سڑکوں پر گشت پر مامور رہے  جبکہ دکانیں بند ہیں، گزرگاہوں پر جگہ جگہ خاردار تاریں لگا کر علاقے کو دوسرے علاقے سے علیحدہ کیا گیا   اور وادی میں ایسی خاموشی طاری رہی کہ صرف سیکیورٹی اداروں کی گاڑیوں کے سائرن کے علاوہ کچھ بھی سنائی نہیں دے رہا تھا۔وادی کی طرف آنے والے راستوں کو بھارتی قابض افواج نے خار دار تاریں لگا کر بند  کئے رکھا ہے، جموں، کٹھوعہ، سامبا، پونچھ، ڈوڈا، ادھمپور سمیت دیگر علاقوں میں زیادہ سختی ہے۔ شہریوں کو باہر آنے سے منع کیا جا رہا ہے۔ مسلسل پانچویں روز میڈیا بھی بلیک آؤٹ ہے۔ اخبارات کی ترسیل بند ہے۔ بھارتی افواج نے خوف کے باعث انٹرنیٹ، موبائل سروس بھی بند کر رکھی ہیں۔ سکولوں اور کالجوں سمیت تمام تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔ا?دھر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں شدید کرفیو کے باعث ایک ماں اپنے بیٹے سے رابطہ نہ ہونے پر دہائیاں دے رہی ہے کہ پانچ دن سے میرا بیٹے سے رابطہ نہیں ہو رہا۔ لوگ کرفیو کی وجہ سے گھروں تک محصور ہو رہ گئے ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء   ختم ہو گئی ہیں۔ دوسری طرف بزرگ حریت رہنما سیّد علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق سمیت دو درجن سے زائد حریت رہنماؤں کو سرینگر سے جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ انہیں  آگرہ جیل منتقل کیا گیا ہے۔ حریت رہنماؤں کو  آگرہ جیل خصوصی جہاز کے ذریعے منتقل کیا گیا۔دریں اثناء   مقبوضہ وادی میں بندوقوں کے سائے تلے نمازجمعہ ادا کی گئی۔ بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد میں موجودگی اور کرفیو توڑتے ہوئے شہریوں کی بڑی تعداد نمازجمعہ کی ادائیگی کے لیے مساجد پہنچی۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے شہری کرفیو کو روند کر مسجد پہنچے۔ کارگل میں ہنگامے پھوٹ پڑے،شہریوں نے بھارت کی طرف سے خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد احتجا ج کیا گیا،

شہریوں نے مطالبہ کیا کہ وادی کی خصوصی حیثیت بحال کی جائے۔ اسی دوران عوام نے بھارتی فوجیوں کی دوڑیں لگوا دیں، جس کے بعد درجنوں شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا۔    سرینگر کے شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال میں ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کے زیر استعمال پیلٹ گن اور ربڑ کی گولیوں سے زخمی ہونے والے 50 سے زائد افراد کو اب تک طبی امداد کے لیے لایا جاچکا ہے۔    قبل ازیں بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں 5 روز سے جاری کرفیو میں جمعے کی نماز کے موقع پر نرمی کا اعلان کیا

اور شہریوں کو مقامی مساجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی۔ امریکی خبررساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے پولیس چیف دل باغ سنگھ نے بتایا کہ سری نگر کے اکثر علاقوں میں موجود افراد کو مخصوص مساجد میں جانے کی اجازت دی جائے گی۔سری نگر میں عارضی طور پر کرفیو میں نرمی کی گئی لیکن اس کا وقت متعین نہیں کیا گیا تھا، نماز جمہ کا آغاز 12 بج کر 37 منٹ پر ہوا جو 20 منٹ تک جاری رہی۔پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے بتایا کہ بھارتی حکام کی جانب سے لوگوں کو چھوٹی مقامی مسجد میں نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی

لیکن تاریخی جامع مسجد میں جمعے کا خطبہ دینے کی اجازت نہیں دی گئی جہاں ہزاروں افراد نماز ادا کرتے ہیں۔  خیال رہے کہ سری نگر کی جامع مسجد نماز جمعہ کے بعد بھارت مخالف مظاہروں کا مرکز رہی ہے۔بھارتی حکام نماز جمعہ کے بعد عوام کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھیں گے جیسی وہ عموماً بھارت مخالف مظاہروں کے دوران رکھتے ہیں۔پیر (12 اگست) کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر کرفیو کے تحت عائد پابندیوں میں مزید نرمی کا امکان ہے۔ اس دور ا ن گزشتہ روز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے قوم سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو عید الاضحیٰ کی مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت سنجیدہ کوششیں کررہی ہے کہ عید کے موقع پر عوام کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ ادھر حیران کن طور پر بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں بھی کشمیریوں کے حق میں طلبہ کی بڑی تعداد نے ریلی نکالی اور کشمیریوں کے حق میں صدائیں بلند کیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں مختلف کالجوں اور یونیورسٹیز کے سینکڑوں کی تعداد میں طلبہ نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی۔  یہ ریلی مال چھتر، اوپورجیو بنگلہ سے ہوتی ہوئی سینٹرل شہید مینار تک گئی۔ جس میں دیگر شہری بھی شامل ہوتے رہے۔ریلی کے دوران طلبہ سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے صدائیں بلند کیں۔ ان میں ”ہم آزادی چاہتے ہیں“، ”ہماری زمینوں کو آزاد کرو“ اور کشمیر میں آپریشنز بند کیے جائیں۔ انٹر نیٹ، موبائل اور لینڈ لائن کو فوراً چالو کیا جائے۔حیران کن انداز میں ایسی نوجوان لڑکیاں بھی موجود تھیں جنہوں نے میڈیکل والے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے آوازیں بلند کر رہی تھیں۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کرتے۔ کشمیر کو آزاد کیا جائے اور نام نہاد آرڈیننس واپس لیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(دوسرا حصہ)


حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…