جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

اسلام آباد میں ایچ آئی وی کا پھیلا ئوتیزی سے جاری، 618 نئے کیسز رپورٹ

datetime 18  اپریل‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایچ آئی وی کا پھیلا ئوتیزی سے جاری ہے، 618 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ایچ آئی وی کے 2025میں 498کیسز رپورٹ ہوئے اور شہر میں جنوری 2025سے مارچ 2026تک 618نئے ایچ آئی وی کیسز رپورٹ ہوئے۔سرکاری اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں ہر ماہ اوسطا 41 سے زائد افراد ایچ آئی وی کا شکار ہوئے، ایچ آئی وی متاثرین میں نوجوان مردوں کی واضح اکثریت ہے جن میں 64 فیصد کیسز بالغ مردوں کے ہیں۔حکام کے مطابق ایچ آئی وی کے 618کیسز میں 397مرد، 106 خواتین، 93خواجہ سرا اور 22 بچے شامل ہیں۔سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 120نئے کیسز رپورٹ ہوئے، جولائی 2025 میں سب سے زیادہ 63 کیسز، جون اور دسمبر میں کم ترین 31، 31 کیسز سامنے آئے۔ماہرین کے مطابق نوجوان مردوں میں منشیات کے زیر اثر غیر محفوظ جنسی رویے ایچ آئی وی پھیلنے کی بڑی وجہ ہیں، آئس کے زیر اثر غیر محفوظ تعلقات ایچ آئی وی پھیلا کی بڑی وجہ بن گئی، پاکستان میں ایچ آئی وی کے مریضوں کی اندازا تعداد تقریبا ساڑھے 3 لاکھ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…