منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

بڑی غیر ملکی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کیلئے تیار ہوگئی

datetime 18  اپریل‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)پاکستان میں گاڑیاں بنانیوالی بڑی غیرملکی کمپنی نے آئندہ4 سے 5 سال میں 30 سے 40 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کردیا۔

ان خیالات کا اظہار سی ای اوانڈس موٹرز علی اصغر جمالی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری کیلئے پانچ کے بجائے دس سالہ آٹو پالیسی دی جائے، پالیسی میں ابہام نہ ہو بالکل واضح ہو،ٹویوٹا آئندہ 5سال میں 30 سے 40 کروڑ ڈالرکی سرمایہ کاری پاکستان میں کرنا چاہتا ہے۔الیکٹرک وہیکل کی ٹیکنالوجی کو دنیا اختیار کر رہی ہے،ای وی کا مستقبل ہے ہم بھی ای وی گاڑی لانچ کریں گے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزیدکہاشرح سودکم ہونے سے پچھلے تین سال میں آٹو فائنانسنگ ڈبل ہوگئی،گاڑی کیلئے بینک لون کی حد پر 30 لاکھ کی پابندی ختم کرکے اسے ایک کروڑتک کیاجائے۔

ایکسپورٹ کیلئے ضروری ہے کہ ملک میں زیادہ گاڑیاں بنیں علی اصغر جمالی نے کہا ملک میں گاڑیوں کے خام مال کی صنعت ہو تاکہ سستے خام مال سے گاڑی کی قیمت کم رہے، جن ممالک کو ایکسپورٹ کریں وہاں ہماری گاڑی پرٹیکس کم ہو،گاڑیاں درآمد کرنے والے ممالک سے حکومت ترجیحی تجارت کے معاہدے کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…